.۱۔ہردن جب مریڈیئن آف ٹائم کو ظاہر کیا جاتا ہے، جو یسوع کی زندگی کے آخری دن ہیں ۔ زندگی جو اس نے گزاری ۔ دیکھیں پہلا مضمون ۔۲۔انہوں نے ندی قدران پر اسے صلیب دی ۔ پورا چاند راستے کو روشن کر رہا تھا۔ اور کوہ کلوری سے یہ روشنی گتسمنی تک جاتی تھی، وہ جگہ جہاں وہ اکثر جایا کرتے تھے۔

یہ باغ دراصل زیتون کا باغ تھا ، اسکے نام گتسمنی کا مطلب ہے ۔ ’’ زیتون کو کچلنے کی جگہ ‘‘ اور وہ وقت خداوند کے لئے ناقابل یقین حد تک دلخراش اور چھیدنے والا تھا ۔ باغ کے داخلی دروازے تک اس نے صرف پطرس ، یعقوب اور یوحنا کو ساتھ لیا ، وہ بہت زیادہ پریشان اور غمگین تھا ، اس نے ان سے کہا کہ میری روح بہت زیادہ گھبرائی ہوئی ہے ، یہاں تک کہ مرنے کو ہے ، تم یہاں تھہرو ۔۔اور میرے ساتھ جاگو۔

۴۔پھر ان سے بمشکل الگ ہو کر ، پتھر کا ٹپہ آگے بڑھا ، نہایت کرب میں مبتلا ہوا اور گھٹنے ٹیک کر یوں دعا کرنے لگا ، اے باپ اگر تو چاہے تو یہ پیالہ مجھ سے ہٹا لے، تو بھی میری نہیں بلکہ تیری مرضی پوری ہو ،.

’’ ابا ‘‘ کہتے ہوئے ذاتی طور پر باپ کے لئے جو لفظ استعمال کیا جاتا ہے ، خاص طور پر خاندانی حلقوں میں[ہوتا ہے]۔ باغ میں اذیت۔

۵۔سخت اذیت جو یسوع نے باغ میں برداشت کی ، وہ موت کا خوف یا صلیب کی اذیت نہ تھی ۔ بطور ابدی باپ کے بیٹے، اس سے کوئی بھی اسکی زندگی نہیں لے سکتا تھا ،آدھی رات کی اس گھڑی میں وہ شیطانی طاقتوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار تھا ، جب اس نے ساری دنیاکے گناہ ، دکھ درد ، اور کمزوریاں اپنے پر اٹھا لیں۔

جب اس نے ساری دنیاکے گناہ ، دکھ درد ، اور کمزوریاں اپنے پر اٹھا لیں۔

سخت اذیت جو یسوع نے باغ میں برداشت کی۔

۶۔یہ نہ صرف جسمانی درد تھا اور نہ ہی ذانی دکھ تھا ، جس سے اسکو اس قدر اذیت برداشت کرنا پڑی ، پھر وہ سخت پریشانی میں مبتلا ہو کر اور بڑی د لسوزی سے دعا کرنے لگا ، اور اسکا پسینہ گویا خون کی بڑی بڑی بوندیں بن کر زمین پر ٹپکنے لگا ، مگر یہ روح کی روحانی اذیت تھی ، جس کا تجربہ کرنے کے قابل صرف خدا ہی تھا ، کوئی اور شخص نہیں ، تاہم وہ خود میں برداشت کرنے کی عظیم جسمانی اور ذہنی قوت پیدا کر سکتا ہے ، جسے اسکے جسمانی عضاء برداشت کر سکتے ہیں اور اپنے آپ کو اسکے تابع کر سکتا ہے ، اور لا شعوری کیفیت پیدا کر سکتا تھا۔ اور معافی کی دعوت دیتا ہے ، اور اس گھڑی یسوع نے جو اذیت برداشت کی ، اور شیطان کی تمام دہشتوں پر گالب آیا ، یہ اس دنیا کا شہزادہ ہی کر سکتا تھا ۔

۷۔جدید مکاشفہ میں یسوع اس واقعہ کو یوں بیان کرتا ہے ، میں خدا نے یہ تمام باتیں سب کے لئے برداشت کی ہیں ، تاکہ ان کو یہ برداشت نہ کرنی پڑیں، جب وہ توبہ کر لیتے ہیں ، اگر وہ توبہ نہیں کرتے تو انھیںیہ ضرور برداشت کرنا ہونگی، جیسے میں نے کی ہیں۔ وہ اذیت مجھے برداشت کرنا پڑی، جو خدا ہوں، جو سب سے عظیم ہوں ، اور اذیت سے کپکپی طاری ہوگئی اور جسم اور روح کے مسام سے خون بہ نکلا ، اور اس نے یوں دعا کی ، اگر ہو سکے تو یہ تلخ پیالہ مجھ سے ٹل جائے، اگر یہ میرے پیئے بغیر نہیں ٹل سکتا تو تیری مرضی پوری ہو

مکمل دہشت جو ناقابل برداشت تھی، یسوع نے جسم اور روح میں برداشت کی ۔

۸۔اور اسکا پسینہ اور خون قطروں کی مانند زمین پر گر رہا تھا، خداوند کا ایک فرشتہ آسمان سے اترا جو اسے تقویت دیتا تھا ، اور اس تکلیف میں اس نے بڑی شدت سے دعاکی ۔

۹۔یہ تابعدار بیٹا ، جس کا رابطہ اپنے باپ سے تھا ، وہ اتنا کامل تھا کہ وہ کہہ سکتا تھا ، کہ ’’ جس نے مجھے دیکھا اس نے باپ کو دیکھا ‘‘ پھر بھی اس شدت سے دعا کی ، اس قدر گہرائی سے دعا کرنے میں اس نے کس قسم کے الفاظ کہے ہونگے ، جیسا کہ وہ ایک طرح سے ناقابل یقین حد تک فانی ذہن رکھتے تھے، اور دنیا کے تمام گناہوں کو خود اٹھا لیا،، تاہم یہ اتنا مکروہ یا نفرت انگیز واقعہ تھا ۔۔۔ ہماری کمزوریوں اور ناقابل پیمائش قرض کی قیمت ادا کی ، جو ہم ادا نہیں کر سکتے تھے۔

قیمت ادا کرنا ۔

۱۰۔ ا س نے قیمت ادا کی ، اس نے ان سب کا کفارہ دیا ، جو اس کے نام پر توبہ کرتے ہیں ، اور خداوند کے ساتھ پھرایک ہوتے ہیں ، جبکہ سب چیزیں،ماضی ، حال اور مستقبل لگا تار اسکے سامنے رہتی ہیں، ایک لحاظ سے ہم نہیں سمجھ سکتے ، یہاں تک کہ گناہ کو بھی نہیں، وہ گناہ بھی اس پر لاد دیئے گئے جو ابھی تک ہم نے کئیے بھی نہیں تھے، ان گناہوں کی اذیت بھی مسیح نے گتسمنی میں برداشت کی ۔

۱۱۔یہ تلخ پیالہ پیئے بغیر ، جس کی تلچھٹ سارے جہاں میں بھاری یا مشکل ترین کام تھا ۔ ہم روحانی طور پر مر جائیں گے، جب ہم ایک بار گناہ کرنے گے ۔ ہم ناپاک ہو جائیں گے۔ ہم اپنے آسمانی باپ کے پاس واپس جانے کے قابل نہیں رہیں گے ،مقروض کو ناممکن قرض برداشت کرنا پڑے گا، دن آئے گا ،جب کامل صفائی سے، ہم اپنے خدا کے سامنے پیش ہونگے، اور اپنی غلطیوں یا گناہوں کا کامل علم پائیں گے، اپنی ناپاکی اور اپنی برہنگی کا کامل علم پائیں گے ۔

۱۲۔توبہ کے ذریعے ،ایک کامل بیٹے نے ممکن بنایا ، قربانی کا برہ ، وہ قیمت ادا کرتا ہے ، جو اسکی اپنی نہ تھی، ہماری غلطیوں کا بوجھ اٹھا کر ڈگمگا رہا تھا ۔ اور ہمیں نئی زندگی دی جا سکتی تھی ۔ کس کو اس دل توڑنے والی دنیا میں، اس مایوس جہاں میں ، ان تحفوں کی ضرورت تھی ، جب ہم اپنے دل کے دکھ ، میں پکارتے ہیں ، اے یسوع خدا کے بیٹے، مجھ پر رحم کر ، جو اس پت جیسی تلخی میں ہوں، ایک ہے جو رحم سے سنتا ہے ۔ گتسمنی میں اس رات کی وجہ سے، (جہاں اس نے سب کے باجھ اٹھا لیے ) ۔

۱۳۔ایک [شخص] جس نے رویا میں یہ منظر دیکھا ، بیان کرتا ہے ۔ میں نے گتسمنی باغ میں دیکھا ، نجات دہندہکے دکھ کا ایک گواہ ہوں ، میں نے صاف صاف دیکھا ہے ، جیسے کسی شخص کو دیکھا جا سکتاہے ۔ گراؤنڈ میں ایک درخت کے پیچھے سے میں نے یسوع کو ، پطرس یعقوب اور یوحنا کے ساتھ دیکھا ، جب وہ چھوٹے سے گیٹ کے دریچے سے، اپنی دائیں طرف ۔۔۔جب اس نے دعا کی تو اانسو اس کے چہرے سے بہہ رہے تھے ، جس کا رخ میری طرف تھا ۔ اس منظر سے مجھے اتنی تحریک ملی ، کہ میں بھی خالص ہمدردی میں رو پڑا۔

۱۴۔میرا پورا دل اسکی طرف مائل ہوا ، میں اپنی ساری روح سیاسے پیار کرتا ہوں۔ میری بڑی خواہش ہے کہ میں اسکے ساتھ رہوں ،جیسا کہ میں نے کبھی بھی کسی اور چیز کے لئے خواہش ظاہر کی ہوگی۔۔۔نجات دہندہ تین رسولوں کے ساتھ،۔۔۔روانہ ہونے کو تھا، ۔۔۔میں اسے مزید برداشت نہیں کرسکتا تھا، میں درخت کے پیچھے سے دوڑا ، اور اس کے قدموں میں گرا ، گھٹنوں کو پکڑا، اور اس سے التجا کی کہ مجھے بھیساتھ لے جاؤ، میں وہ مہربانی اور شفقت کبھی نہیں بھولوں گا، جس طرح وہ جھکا اور مجھے اوپر اٹھایا اور گلے لگایا۔

۱۵۔ میں نے اسکے جسم کی حرارت محسوس کی ، جب اس نے مجھے اپنے بازؤں میں لیا اور انتہائی نرم لحجے میں کہا ، نہیں میرے بیٹے ، انہوں نے اپنا کام ختم کر لیا ہے، وہ میرے ساتھ جا سکتے ہیں ، تمھیں ٹھرنا ہے ، اور اپنا کام ختم کرنا ہے ، میں ابھی تک اس دے لپٹا ہوا ہوں، اور اسکے چہرے کو دیکھ رہا ہوں ،۔۔۔۔کیونکہ وہ مجھ سے قد آورتھا، ۔۔۔۔میں بشدت اسے ڈھونڈھ رہا ہوں،۔۔۔ہاں ، مجھ سے ، مجھ سے وعدہ کیا گیا تھا ، کہ میں تمھاتے پاس آخر میں آؤں گا، شریں مسکراہٹ لئے ہوئے، اس نے کہا تھا ، وہ ہر لحاظ سے تم پر منحصر ہوگا ۔

زیتون نچوڑنے کی جگہ۔

۱۶۔ جیسا کہ تمام چیزیں منجی کی گواہی دینے کے لئے پیدا کی گئی تھیں ، اسی طرح گتسمنی بھ بنایا گیا تھا ، زیتو ن کا کوہلو ، اس بے رحم رات کی خاموشی گواہی دیتی ہے ، زیتون کا تیل اسرائیل کے لئے زندگی کا اثاثہ تھا ،اس اندھیری رات میں روشنی آئی، کیونکہ زیتوں کے تیلنے لیمپ بھر دیے تھے ، بام اور شفا آئی ، کیونکہ زخموں پر زیتوں کا تیل لگایا گیا تھا ، زیتوں کا نغدہ ایندھن تھا ، چونکہ زیتوں کا تیل صرف زیتوں سے حاصل کیا گیا تھا انھیں پتھر کے پریس سے ، غیر معمولی دباؤ ڈال کر کچلا گیا تھا ، اس ناکابل برداشت وزن کے نیچے، زیتون جو کھٹے تھے ، ان سے میٹھا تیل حاصل ہوا تھا۔.

پس یہ تلخکفارہ سے حاصل ہوا جو اس رات گتسمنی میں واقع ہوا تھا ، جو زندگی کے لئے قیمتی اور شریں تھا ۔ سب کچھ جو اندھیرے میں روشنی دیتا ہے ، جب ہمیں پاک کیے ہوئے تیل سے مسح کیا جاتا ہے ، یہ مسیح کی قربانی ہے ، جس سے ہمیں شفا ملتی ہے ،جو زیتون کے پریس سے ہمارے زخموں کے لئے مرہم حاصل ہوتا ہے ۔

۱۸۔ اس نے اپنے رسولوں پطرس ،یعقوب اور یوحنا سے کہا تھا کہ اس کے ساتھ جاگیں،مگر دوبارہ جب وہ دعا کرکے کھڑا ہوا، تو اس نے انھیں ’’ گم سے سوتے پایا ‘‘، یسوع نے کہا ، ’’ کہ تم میرے ساتھ ایک گھڑی بھی نہ جاگ سکے ؟ ‘‘ پھر اس نے ہمدردی سے کہا ، ’’ روح تو تیار ہے مگر جسم کمزور ہے ‘‘ بالآ خر جب تیسری بار انکو سوتے پایا، تو ان سے کہا ، اب سوتے رہو ،اور آرام کرو، یہ ہی کافی ہے ،۔۔۔۔ ’’دیکھو ، ابن آدم کو گناہگاروں کے حوالےکیا جاتا ہے ‘‘ ۔

بےوفائی ۔

۱۹۔ شاید کہ اس لمھے وہ معشلوں کی رسشنی دیکھ سکتا تھا ، جو اس پہاڑ کی طرف اارہی تھی۔ یہودہ اسلحہ بردار سپاہیوں سمیت آپہنچا ، ’’ میرا اپنا ذاتی دوست ، جس پر میں بھروسہ کیا کرتا تھا ، جس نے میری روٹی کھائی ، اپنی ایڑی میرے ہی خلاف اٹھائی ‘‘ ۔

۲۰۔ یہودہ نے یسوع کے پاس آ کر سلام کیا ، اسکا نہ صرف ایک بھوسہ لیا ، بلکہ بار بار اس کا بھوسہ لیا ، بلکہ بلند آواز میں جوش میں بھوسہ کو دہرایا،

۲۱۔ یسوع کی گرفتاری کا دفاع کرتے ہوئے ، پطرس نے اپنی تلوار نکالی اور سردار کاہن کے نوکر ، بالکس کا داہنا کان آڑا دیا ، یسوع نے اس کے کان کو چھوا ، اور یہ کہتے ہوئے بحال کر دیا ، ’’ کیا تم نہیں جانتے ، میں اپنے باپ کہہ نہیں سکتا کہ وہ ابھی مجھے فرشفوں کی بارہ تمن فوج بھیج دے تو وہ بھیج دیتا ۔ مگر اب ضبط کا وقت ہے ، جیسے کہ اس نے خود اپنے آپ کو قید ہونے کے لئے حوالے کردیا ، تاکہ جو صحائف میں لکھا ہے وہ پورا ہو ‘‘ ۔

۲۲۔ جب سپاہیوں نے یسوع کو پکڑا ، ’’ انہوں ین اپنے سامنے ایک نہتے اور تھکے ہوئے ، شخص کے سوا کچھ نہ دیکھا ، جس کو اس کے اپنے ایک ذاتی دوست یا ساتھی نے پکڑوا دیا تھا ، اور جس کی سادہ سی گرفتاری کو بے مدد تکلیف میں، چند ڈرے ہوئے گلیلیوں نے دیکھا تھا ، جو آخرکار پریشانی میں [ اس کو چھوڑ ] کر بھاگ گئے ، یہ اس طویل اور خوفناک آزماائشی رات کا شروع تھا ۔ اول ، اس کو کاہن اعظم آناس کے سامنے پیش کیا گیا ، جو اس سے پہلے سات سال تک کاہن اعظم رہ چکا تھا ، یہ دولت کا لالچی ، یہودی طاقت کا پجاری ، دنیا کے گناہگاروں میں سے ایک، وہ سردار کاہنوں کو مقرر کرتا، اور انکو اپنے تابع رکھتا تھا ، جو غلاموں کی طرح اسکے حکموں کی پیروی کرتے تھے ۔

یہودہ کی بے وفائی

یہودہ نے یسوع کے پاس آ کر سلام کیا اور بوسہ لیا۔

 

کائفا کے محل میں۔

۲۳۔ اسکے بعد ، اس تھکے ہوئے شخص کو باندھ کر پہلے کائفا کے سامنے پیش کیا گیا ، جو قانونی طور پر [ اس سل ] کاہن تھا ، جس کے صحن میں سنڈرن یا قانون ساز اسمبلی کی جماعت جمع تھی ، اور ان کے سامنے ایک معصوم قیدی تھا ، وہ بے گناہ تھا ، انکی حالت واضع تھی، وہ ایک بڑے مسئلہ پر پریشان اور اختلاف رکھتے تھے، سوائے ایک کے ، یہ کہ یسوع نام شخص کو مرنا چاہئے، تاہم پھت بھی انکو اسکا جرم ثابت کرنے کی ضرورت تھی، [ اس کے لئے ] انہوں نے جھوٹے گواہ تلاش کیے ۔

۲۴۔ بہت تھے جو جھوٹی گواہی دینے کے خواہش مند تھے، مگر انکیے گواہی اتنی جھوٹی، اتنی تاریک یا کمزور، اپس کے اتنی برعکس یا مختلف تھی ، کہ وہ سب بے کار ہوگئین ‘‘ ان سب کی لاحاصل بحث، یسوع نے خاموشی سے سنی، جس نے ان میں صرف مزید رکاوٹ ڈالی ، جب تک کائفا کو غصہ نہ آگیا ، اس نے [ یسوع سے ] یہ سوال پوچھا ، تم کوئی جواب نہیں دیتے ، میں تمہیں زندہ خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، ’’ اگر تو خدا کا بیٹا مسیح ہے تو ہم کو بتا دے ، یسوع نے جواب دیا کہ ، میں کبھی بھی چھپ کر کچھ نہیں کہا تھا ، تو نے یہ خود کہہ دیا ہے ۔

پطرس کی بے وفائی ۔

۲۵۔ اس دوران جب پطر س باہر صحن میں انتظار کرتا تھا ، ہجوم میں مل کر لوگو ں کی باتیں سن رہا تھا ، جو اس پر جھوٹی تہمت لگاتے اور اس کی گرفتاری کی کہانیاں بتاتے تھے۔ ایک لونڈی نے اس سے کہا ، جو اسکو محل میں لے گئی تھی ، ’’ کیا تو بھی اسکے شاگردوں میں سے ہے ؟ ‘‘ اس نے کہا میں نہیں ہوں ۔

۲۶۔ اسکے بعد ایک اور نوکرانی نے اسے دیکھا ، اور جو وہاں تھے ، ان سے کہا ، یہ بھی یسوع ناصری کے ساتھ تھا ، اس وقت پطرس زیادہ خوفزدہ تھا ، اور قسم کھا کر کہنے لگا ، کہ اس آدمی کو نہیں جانتا ، اور پھر شمعون پطرس کھڑا ، آگ تاپ رہا تھا ، پس انہوں نے اس سے کہا ، تو بھی اس کے شاگردوں میں سے ہے ، کیا میں نے تجھے اسکے ساتھ باغ میں نہیں دیکھا ۔

۲۷محبت بھر ے چہرے اور پریشان آنکھوں کو دیکھ کر ، نیز اتنی پریشانی جان کر پطرس باہر جا کر زار زار رونے لگا ۔

۲۸۔پطرس لعنت کرکے اور قسم کھا کر کہا ، کہ میں اس آدمی کو نہیں جانتا ، تو کیا کہتا ہے ، وہ یہ کہہ ہی رہا تھا کہ مرغ نے بانگ دی۔اور خداوند کو ممکنا طور پر پریشان قیدی کی طرح لے جایا جا رہا تھا ۔ اور خداوند نے پھر کر پطرس کی طرف دیکھا ۔اس محبت بھرے چہرے اور پریشان آنکھوں میں دیکھا اور اپنی بے بسی دیکھ کر ، باہر گیا اور زار زار رویا۔

آزمائش۔

۲۹۔ منجی کی کائفا کے ساتھ بات چیت کے بعد ، جو آدمی مسیح کو پکے ہوئے تھے، اسکے منہ پر تھوکتے اور اسکو ٹھٹھوں میں اڑاتے اور مارتے تھے، اسکو ایک ظالم کھیل بناتے تھے، اور اسکی آنکھیں بند کرکے ، اس سے پوچھتے تھے کہ ’’ نبوت سے بتا تجھے کس نے مارا ہے ‘‘ ۔

۳۰۔ آخر کار طویل رات ختم ہوئی اور دن ہوا، اور یسوع کو مجلس کے سامنے حاضر کیا گیا ۔اور یسوع کو مجلس کے سامنے حاضر کیا گیا ۔جو ظاہرا ان کے اپنے قانون کی خلاف ورزی یھی ، اس پر کفر کا الزام لگایا گیا ، وہ واحد شخص تھا جو کفر نہیں کہہ سکتا تھا ، خداوند خود ، [ انہوں نے کہا ] ’’ اب ہمیں اور گواہوں کی کیا ضرورت ہے ‘‘ ۔

۳۱۔ تاہم وہ اسکو موت دینے کے لئے کوشاں تھے اور ورمی حکومت کی رعایا ہونے کی وجہ سے ، وہ خود سے موت کی سزا نہیں دے سکتے تھے ، مشتعل ہجوم کی وجہ سے،سپاہ اسے باندھ کر ہیرودیس کے محل میں لے گئے، وہاں پلاطوس جو رومی مدعی تھا ، وہ ہجوم اور فسح کی روایت پر پوری طرح نظر رکھے ہوئے تھا ۔

۳۲۔ یہ غیر یہودی کا گھر تھا یہاں خمیری روٹی تھی، اور نازک یہودی راہنما اپنے ااپ کو ناپاک نہیں کرنا چاہتے تھے ، مگر یہاں فورا داخل ہوئے ، اور ایک معصوم کو قتل کرنے کی کوشش میں وہ ناپاک نہیں ہو رہے تھے ، پھر یہی پلاطوس باہر آیا اور ان سے یوں کہا ، ’’کہ تم اس شخص پر کیا الزام لگاتے ہو ‘‘ ۔

۳۳۔ یہ ایک عملی سیاست دان کی طرف سے ایک مشکل سوال تھا ، انہوں نے الزام تلاش کیا اور مشورت کرکے اس پر کفر بکنے کا الزام لگایا ، رومیوں کے لئے اس کو کوئے مطلب نہیں تھا ، اس وقت اس پر بغاوت کا مقدمہ بنایا گیا ،کہ وہ قیصر کا مخالف ہے ، وہ اپنے آپ کو یہودیوں کا بادشاہ کہتا ہے۔

۳۴۔ وہ جنہوں نے یسوع پر غور کیا ، پلاطوس اس پر کوئی الزام نہیں لگاتا ، پلاطوس کے دل میں اسکے لئے ذرا سی بھی دشمنی نہ تھی ، یہ کہ خداوند نے اسے چھوا تھا ، اس سے سوال کرنے کے بعد ، اس نے خوشگوار انداز میں کہا ، میں اس میں کوئی قصور نہیں پاتا ، یہ سن کر کاہن شور کرنے اور اس پر الزام لگانے لگے ،جس میں اس نے ایک لفظ گلیلی سنا ، اس پر پلاطوس نے ان سے نکلنے کا بہانہ بنا لیا ، پلاطوس نے مسیح کو ہیردیس کے پاس بھیج دیا ، جس کے حلقے میں گلیل کی سبز پہاڑیاں بھی شامل تھیں ۔

۳۵۔ ہیرودیس نے یوحنا اصطباغی کو قتل کیا تھا ، پس اس ظالم اور گستاخ کے سوال پوچھنے پر ، یسوع نے اس ظالم بادشاہ کو کوئی جواب نہ دیا ، کمزوروں، بیماروں، بچوں اور گناہگاروں کیلئے اس [یسوع] کالہجہ تسکین دینے اور پیار کرنے والا تھا ، مگر ظالموں کے ساتھ خاموشی اختیار کر لیتے تھے، وہ ہیرودیس کو غصہ نہیں دلانا چاہتا تھا، ہیرودیس ، یسوع کے ہاتھوں کوئی معجزہ دیکھنے کا خواہش مند تھا ۔.

۳۶۔ اعلی کاہن اور عوامی حکمران جمع ہو چکے تھے ، اسکا مذاق اڑاتے اور اس پر تھوکتے تھے ، تھکے ماندے مسیح کو ایک بار پھر پلاطوس کے سامنے لایا گیا ، اس کی گرفتاری کے خبر سارے شہر میں پھیل گئی ، اور تمشائی ہجوم جمع ہو چکا تھا ۔

۳۷۔ اس پر پلاطوس نے اعلان کیا ، ’’ تم اس آدمی کو میرے پاس لائے ہو ، جو لوگوں کو [ بادشاہ کے خلاف ] اکساتا ہے ، اور دیکھو ، میں نے تمہارے سامنے اس کی تحقیق کی ہے ، اور میں نے اس شخص میں کوئی قصور نہیں پایا ‘‘ ۔ اب یہ بہت ہو چکا ہے ، رومی حاکم نے کہا ، مگر متعصب [یہودیوں] کو گروہ جو اس کے ساتھ تھا، اس [ یسوع ] کے خون کا پیاسا تھا ۔

۳۶۔ پلاطوس کی رحم دلی ، اسکی بزدلی کے نیچے روند دی گئی، کیونکہ پلاطوس پر ماضی کی ناموافق غلطی کا بوجھ تھا ، اس نے اس پہلے بھی یہودیوں کو کئی بارغصہ دلایا تھا ، جیسا کہ ایک دفعہ، نہر بنانے کے لئے اس نے پاک خزانے سے رقم ضبط کر لی تھی ، اور پھر یہودیوں کے لباس میں، عوام کے اندر اپنے مسلح سپاہی بھیج دیے تھے، نجہوں نے اپنے پاس خنجر چھپا رکھے تھے، تاکہ ان کو سزا دے جنہوں نے اس کی مخالفت کی تھی، اب وہ اپنے ماضی کے گناہ میں پکڑا گیا تھا ، کیا وہ اپنی ناپاک عقل سے حکم توڑ کر پھر گناہ کرے گا ۔

برابا۔

پس اس نے پھر ایک اور طریقہ سے یہودیوں کو راضی کرنے کی کوشش کی ، عید فسح پر انکی خاطر ایک قیدی کو چھوڑ نے کی روایت تھی ، یہاں دو آدمی تھے ، پلاطوس نے یہ ہجوم کے سامنے کھڑے ہو کر کہا ، ایک برابا تھا جو بغاوت اور قاتلوں کا سردار تھا ، اور دوسرا یسوع تھا ، امن کا پیامبر، جس نے مردوں کو زندہ کیا تھا ، ’’ تم کسے چاہتے ہو کہ میں تمھاری خاطر چھوڑ دوں ‘‘۔ برابا کو یا یسوع کو جو مسیح کہلاتا ہے ‘‘ اس ہجوم کچھ وہ لوگ بھی تھے جن کو خداوند نے اچھا کیا تھا ، اور کچھ نے اسکے شفائیہ الفاظ یا کلام سنا تھا ، مگر کاہن ہجوم کے درمیان گئے اور انہیں ابھارا [ کہ برابا کو مانگ لو ] اور وہ چلانے لگے ، برابا ، برابا کو چھوڑ دے۔

۔ پلاطوس نے مسیح کو چھوڑ دیا ہوتا ، [ اگر ہجوم اس کو مجبور نہ کرتا] اس پر اس بات کا احساس اور بھی زیادہ ہوا جب اسکی بیوی نے اس کے پاس آکر درخوست کی ، اس راست باز شخص کے ساتھ کچھ نہ کرنا ، کیونکہ آج رات میں نے خواب میں اس کے سبب سے بہت دکھ اٹھایا ہے ۔

ْقیصر کے سوا ہمارا کوئی بادشاہ نہیں

۴۱۔ جب کبھی یہ پھڑپھڑاتے ضمیر والے لوگوں کی وجہ سے، پلاطوس نے [ یسوع کو کوڑے لگوانے کے لئے بھیج دیا ، سپاہیوں نے کانٹوں ایک تاج بنایا اور اسکے تھکے ماندے سر پر رکھا ، اور اسے قرمزی چوغہ پہنایا ، پھر حسد سے اسے گھورتے تھے ، اسکو مارتے ، اور تھوکتے تھے ، اور یہ کہتے ہوئے اسکی تذلیل کرتے تھے، ’’ اے یہودیوں کے بادشاہ سلام ‘‘ ۔ اور اس توہین کے بارے سوچیں ، اور یہ تکلیف دہ ناانصافی تھی ۔ اور جان لو کہ وہ جس نے یہ سب کچھ برداشت کیا تھا ، وہ ہر وقت ہماری مدد کر سکتا ہے ۔

۴۲۔ اب پھر یسوع کو جس کے زخموں سے خون بہہ رہا تھا، ہجوم کے سامنے لایا گیا تھا ’’ دیکھ یہ آدمی اس نے کہا۔‘‘ اب اسکے لئے ہمدردی کا کوئی جاش نہیں تھا ، وہ مرد وزن کہاں تھے ، وہ لوگ کہاں تھے ، جو پانچ دن پہلے کھجوروں کی ڈالیاں لہرا رہے تھے ، ان کا ہوشعنا کہنا کہاں تھا ، انکا ہوشعنا تغیر پزیر تھا ، وہ ہوا میں غائب ہو چکا تھا ، کیا یاس نہیں ہے ؟ اب صرف پلاطوس کی کرپٹ آواز دہرائی جا رہی تھی، ’’ میں اس میں کوئی قصور نہیں پاتا ‘‘۔ ابھی صبح ہی تھی کہ پلاطوس ہجوم سے مغلوب ہوگیا ، ’’کیا میں تمہارے بادشاہ کو مصلوب کروں ؟ ‘‘ اور لگ چلائے ، کہ اس کو لے جا ، اسے صلیب دے ،۔۔۔۔۔’’ قیصر کے سوا ہمارا کوئی بادشاہ نہیں ہے ۔ ‘‘

ْقیصر کے سوا ہمارا کوئی بادشاہ نہیں۔

یسوع کوقرمزی چوغہ پہنایا ، پھر حسد سے اسے گھورتے تھے ، اسکو مارتے ، اور تھوکتےرہے۔

 

صلیب۔

۴۳۔ ’’جب پلاطوس نے دیکھا کہ اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا بلکہ بلوا ہوا چاہتا ہے ، اس نے پانی لیا اور ہجوم کے روبرو، یہ کہتے ہوئے اپنے ہاتھ دھوئے، کہ میں اس راست باز شخص کے خون سے بری ہوں ۔‘‘ اور لوگ چلائے ، ’’ اس کا خون ہم پر اور ہماری اولاد پر ہو ‘‘۔ اور مسیح کو گناہگاروں کے ساتھ گنا گیا، اور وہ اپنی صلیب اتھا کر کلور ی تک گیا جو جلجتا کہلاتا ہے ، جب تک کہ وہ صلیب کے بوجھ سے گر نہ پڑا، اور اسکی مصیبت میں اضافہ ہوگیا ،سڑک کنارے لوگ خاموش تھے ، چند عوتیں روتی تھیں ، صلیب دو ڈاکوؤں کے درمیان کھڑی کی گئی تھی، اور دوپہر کے وقت شرم سے ساری زمین پر اندھیرا چھا گیا ۔

۴۴۔سزائے موت میں ، یہودی ، سنگسار کرتے ، جلاتے ،سر قلم کرتے یا دم گھٹنے کی سزا دیتے تھے، مگر رومیوں نے سزا کا سب سے ظالم طریقہ کا انتخاب کیا ، صلیب ۔ یہ آہستہ آہستہ تکلیف دہ موت تھی ، اس سے مظلوم کو اذیت دی جاتی تھی ، غیر فطری حالت کی ہر حرکت تکلیف دہ یا درد ناک ہوتی تھی ، نسیں پگٹ جاتی تھیں ، اور پٹھے کچلے جاتے تھے ، لگا تار درد سے پٹھے اور نسیں پھڑکنے لگتی تھیں ، زخم واضع کرکے اشتعال دیتے ، آہستہ آہستہ زخموں میں داد یا سڑن پیدا ہوتی تھی ، ۔۔۔۔۔اس طرح جلنے کا احساس ہوتا، شدید پیاس محسوس ہوتی اور ناقابل برداشت درد کا اضافہ ہو جاتا ، ۔۔۔۔غنودگی، اینٹھن، فاقہ کشی ، نیند کی کمی اور شرمندگی محسوس ہوتی تھی ۔

.
۴۵۔ یروشلم میں ایک عورت تھی جو مے کی سبیل لگاتی ، اسکا گروپ پت ملی ہوئی مے لے کر آیا اور وہاں انہوں نے اسے پت ملی ہوئی مے پینے کو دی ، یہ اسکو درد کو کم کرنے کے لئے دی گئی تھی ، مگر اس نے اسے چکھ کر پینا نہ چاہا، جبکہ مظلوم کو زمیں لٹا یا گیا تھا ، صلیب کی لکڑی میں کیل ٹھو نکے گئے تھے،

۴۶۔ وہ اسکو برہنہ لائے، وہاں اسکو صلیب پر لٹکایااور اسکو ٹھٹھوں میں اڑایا ( اور اسکا الزام لکھ کر اسکے سر پر لگایا ) ’’ یسوع ناصر ی یہودیوں کا بادشاہ ‘‘۔ اور انہوں نے اسے مصلوب کیا ۔ اور اسکے کپڑے قرعہ ڈال کر بانٹ لئے ، شاید اسکی واحد ملکیت اسکا کرتا تھا ، جو دو حصوں میں سلا ہوا تھا ، انکی طرف سے اس نے کہا ، ’’ اے باپ انکو معاف کر کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ کیا کرتے ہیں؟

‘۴۷۔ جب وہ درد میں صلیب پر لٹکایا گیا ، حکمران اور لوگ دور کھڑے تھے ، اور راہ چلنے والے سر ہلا ہلا کر لعن طعن کرتے ، اور کہتے تھے ، اے مقدس کو ڈھانے والے اور تین دن میں ’ ڈھا کر] بنانے والے، اپنے تئیں بچا ، اس تکلیف میں بھی اس کی زبان پر صرف محبت کے الفاظ تھے، اسکی ماں ، مریم نے بھی اپنے جسم میں موت کا درد محسوس کیا ہوگا ، اسکو فکر تھی کہ اسکا خیال رکھا جائے، اس نے یوحنا کو ، جسے وہ پیار کرتا تھا ، کہا، ’’ دیکھ تیری ماں ، اور اسی وقت سے یوحنا اسے اپنے گھر لے گیا ‘‘ ۔ اور توبہ کرنے والے ڈاکو ،کو اس نے امید دی۔

۴۸۔ پھر دوپہر کے قریب سے تیسرے پہر تک تمام ملک میں اندھیرا چھا یا رہا، جیسے کہ خود پوری کائینات خالق کے دکھ میں رو رہی ہے ، اس وقت تمام دکھ اور گتسمنی کی تمامبے رحم اذیتیں لوٹ آئیں ،اور اس کے باپ کی روح ،خود اس سے الگ ہو گئی ،تاکہ وہ فتح اسکی [ اپنی ] ہو، نویں گھنٹے، تین بجے ، یسوع بآواز بلند چلایا، ۔۔۔اے میرے خدا یا ، اے میرے خدایا، تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا ہے ؟

۴۹۔ اس مغموم دوپہر کے اندھیرے میں ایک [ سپاہی بھاگا اور سفنج کو سرکہ میں بھگویا، [ اور یسوع کے منہ سے لگایا ] سکہ پینے کے بعد یسوع نے کہا ، اے باپ ، تمام ہوا ، تیری مرضی پوری ہو گئی، جب وہ مر گیا تو ہیکل کا پردہ اوپر سے نیچے تک پھٹ گیا اور زمین پر بھونچال آگیا، چٹانیں تڑک گئیں، جیساکہ پاس سر پلٹن گزر رہی ہے ، [ اور وہاں موجود سپاہیوں میں سے ایک نے کہا ] ’’در حقیقت یہ شخص خدا کا بیٹا ہے ‘‘

۵۰۔ جب اسکا جسم صلیب پر تھا ، اور پھر اسکے بعد اسکے جسم کو جوزف رامتی کی قبر میں رکھا ، یسوع کی روح ایک اہم مشن پر تھی ، نجات کا منصوبہ پورا کرنا تھا ، ایک ابتدائی مسیحی نے پطرس سے پوچھا تھا ، ’’ کیا وہ جو یسوع کے آنے سے پہلے فوت ہو چکے ہیں ، انھیں خدا کی بادشاہت سے محروم کردیا جائے گا؟ ‘‘ یا کسی بھی نسل سے جو یسوع مسیح کے بارے علم حاصل کیے بغیر فوت ہو گئے ہیں، انھیں نکال دیا جائے گاْ ؟ ‘‘ یہ ہے وہ سوال جو مسیحی تحریروں میں موجود تھا اور اسکا جواب یسوع مسیح نے عالم رواح میں جا کر دے دیا ہے ،جبکہ اسکا جسم قبر میں تھا ۔

۵۱۔ عالم رواح میں ، ان لوگوں کی انگنت روحیں موجود تھیں ، جو یہ دنیا چھوڑ چکے ہیں ، ’’ جو یسوع مسیح کی گواہی میں وفادار رہے تھے ، جب وہ فانیت میں رہتے تھے ، ‘‘ اور اسکے آنے کا انتظار کر رہے تھے ، کہ وہ گیٹ کھولے جہاں انھیں باندھ کر رکھا گیا ہے ، اور ’’ وہ خوشی اور شادمانی سے بھر گئے، اور وہ سب مل کر حمد کر رہے تھے ، کیونکہ انکی نجات کا دن قریب آگیا تھا، ‘‘

۵۲۔ جب یہ روحیں انتظار کر رہی تھیں ، تو خدا کا بیٹا قیدیوں کی رہائی کا اعلان کرنے پہنچ گیا ، جو وفادار رہے تھے ، اور وہاں اس نے ابدی انجیل کی منادی کی ، کفارہ کی تعلیم ، اور توبہ کی شرط پر [آدم کے ] گرنے اور انسان کے ذاتی گناہوں سے ، بنی نوع انسان کی نجات ۔کی تعلیم کی منادی کی۔

” ۵۳۔ تمام جھک گئے، اور خداکے بیٹے کو اپنا منجی اور موت اور جہنم کی زنجیروں سے بچانے والا تسلیم کیا ، انکے چہرے چمکنے لگے ،اور خداوند کے حضور نور ان پر ٹھہر گیا ‘‘۔ ان ایمان داروں کے لئے ، جو بہت دیر تک اپنے جسم کے بغیر رہے تھے

مگر خداوند بدکاروں اور نافرمانوں کی روحوں کے درمیان نہ گیا ‘‘۔ جب وہ روحوں کے درمیان تھا ، پس دیکھو وہ راستبازوں کے درمیان تھا ، اس نے اپنی طاقتیں منظم کیں اور پیامبر مقرر کیے ، جن کو طاقت اور اختیار دیا ، اور انھیں حکم دیا کہ جاؤ جو اندھیرے میں ہیں ، انکو انجیل کی روشنی دو، یہاں تک کہ سب آدمیوں کی روحوں کو ، اور اس طرح مردوں میں بھی انجیل کی منادی کی گئ

  در حقئقیت یہ آرٹیکل۔ www.ldsmag.comنے شائع کیا تھا

 

 

(Visited 179 times, 1 visits today)

Pin It on Pinterest