خود مختار حونا

دوسروں کی مدد کرنا۔

اُ س وقت سے جب ۱۸۳۰ جو کلیسیا یسوع مسیح برائے مقدسین آخری ایام معقد ہوئی تھی، تب اُ س وقت مورمنز صنعت کار ،قصبوں کو تعمیر کرنا، کمیونٹیز کو آرگنائز،نئے علاقوں تک پہنچانا،اورکاشتکاری کرنا،

اور پروسیسنگ آپریشن کرنے والے لوگ تھے۔شروعات سے ہی مورمنزجسمانی اور روحانی دونوں لحاظ سے خود انحصاری پر یقین رکھتے تھے،اور یہ کام ان کے لیے آسان نہیں تھا۔ہکلیں اور چیپلز پہلی عمارتیں تھی جو انہوں نے تعمیر کی ۔اور تمام کام مکمل ہونے کے بعد ،اتوار کا دن عبادت کے لیے مقرر کیا۔

آج بھی کلیسیا کے اراکین کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے نئی مہارتیں سیکھنے میں،کہ وہ تعلیم حاصل کریں،صنعتی بنے،اور معاشر ے کو واپس دے۔اس تمام عمل کی شروعات یسوع مسیح کے ایمان سے ہوتی ہے۔
اپنی روز مرہ سرگرمیوں کو یسوع مسیح کی مثالوں کے مطابق گزارتے ہوئے کہ وہ کیا کرنے چاہتے ہیں،ہم اپنے وقت کے اچھے استعمال اور ہنر کو بہتر سنجھ سکتے ہیں۔ ہمارا یقین ہے کہ خدا دعاؤں کا جواب دیتا ہے۔ہمیں دعا کر کے اپنے زندگی کے بڑے فیصلے لینے چاہیے ،خاص طور پر اپنے کاروبار کے بارے۔دعا کے ذریعے اور دعاؤں کا جواب حاصل کر کے ہم جان سکتے ہیں کہ کاروبار کا کونسا راستہ ہمارے لیے بہترہے ،دوسروں کی مددمیں ہی ہمارے لیے بہتر جگہ جس میں ہم اپنی مدد تلاش کرتے ہیں،اور ہمیں یہ مدد اپنے خود کے خاندانوں سے شروع کرنی چاہیے۔

خود انحصاری کی بنیاد اکثرآسمانی باپ سے دعا اور یسوع مسیح  میں ایمان کی ترقی ہے۔یہاں پرخود مختاری کے چند اصول ہیں جن کے مطابق ہمیں زندگی بسر کرنے کی کی کوشش کرنی چاہیے۔

سخت محنت کرے ۔

اپنا کردار ادا کریں اگر ہم خدا سے تواقع کرتے ہیں کہ وہ ہمیں برکت دے گا۔ ڈیٹر ایف آکڈورف چرچ کے پہلی صدارت میں سے بیان کرتے ہیں خدا ہم سے کبھی ہماری قابلیت سے ذیادہکام کی تواقع نہیں کرتا۔۔۔۔ آسمانی باپ بس ہم سے چاہتا ہے
کہ ہم اپنا بہتر دے جیتنا ہم اپنی قابلیت کے مطابق کرسکتے ہیں۔،چاہے یہ چھوٹاہو یا بڑا۔

پوری ذمہ داری کے ساتھ کام کر یں۔

پوری ذمہ داری کے ساتھ کام کر یں۔ عقلمندی کے ساتھ وقت کا استعمال کریں۔کاموں کو ترجیح دے ،اپنے فارغ وقت کو استعمال میں لائے،اور اپنے اوقات کو سمجھ داری کے ساتھ روحانی ترقی کے لیے استعمال کریں جو ہمیں مزید قابل بنائے گا۔اور مزید ایسے طریقوں کو تلاش کرے جن سے آپ کے کام میں بہتری ہوگی۔ .۔

.پیسوں کا ضرورت کے وقت استعمال کرنا۔

جدید دور کے رسول ایل ٹوم پیری ،ضرورت سے ذیادہ قرض سے گریز کی اہمیت کے بارے سکھاتے ہیں۔ کہ ہمیں ادھار قرضے ہمیں نہیں لینے چاہیے اور خاص قرض کو ہمیں خدا سے دعا اور اچھی مشاورت کے بعد ہی استعمال کرنا چاہیے ایک مناسب بجٹ میں شامل ہوتا ہے دوسروں کی مدد کرنا اپنی دہ یکی دینا اور پیسوں کی بچت سے اسی سے اپنے گھر میں امن قائم کر سکتے ہیں۔

مشکلات کا حل۔

جب مسائل ہمیں گھیر لیتے ہیں تو ہم پریشانی محسوس کرتے ہیں،اور خود کو پریشا ن کرنے بہت آسان ہوتا ہے ایسی جگہ جہاں پر ہم صیحح نہیں سوچ سکتے ۔تو تب ہمارے لیے بہتر ہے کہ ہم مسائل کا سامنا کریں ۔
مشکلات کا حل تلاش کریں۔ جب یوسف نے مصر کو دریافت کیاتو سات سال تک قحط کے سالوں کو دیکھا،اور اُس نے پریشانی میں اپنا وقت ضائع نہیں کیا۔وہ اس مسلے کے حل کے لیے یاگیا۔
(پیدائش ۳۶۔۳۳:۴۱)

سیکھنے کے طالب ۔

بعض اوقات مسائل کا حل مزید تعلیم حاصل کرنے میں ہے۔اس کا آغاز ہم کالج سے یا باقائدہ ترتیب سا ہو سکتا ہے۔مزید بہتر بنے جیتنا آپ بن سکتے ہیں جو بھی کورس یاڈپلومہ کررہے ہیں،آپ کے اردگرد ہیں،ترقی اور منزل کو طے کرنے کے طریقے ہیں۔ہمیں تعلیمی انتخابات اپنے آپ کی حمایت کرنی چاہیے اور اُن کی بھی جو ہم پر انحصار کرتے ہیں،ایلڈر ڈیلن ایچ اوکس سکھاتے ہیں ۔یہ بہت ضروری ہے کہ ہمارے پاس قابل فروخت مہارت ہونی چاہیے ۔اور تعلیم ہماری ذاتی حفاظت اور اچھے کردار کے لیے بھی۔

دیانتداری

مشکل وقت میں ہماری قدریںیہاں تک کے معاہدے بعض اوقات ہمیں سوالات بنا سکتے ہیں پیسوں کے کم ہونے کی وجہ سے ہمارے معیار میں کوئی قرق نہیں پڑنا چاہیے۔یاد کرو، خدا پر بھروسہ رکھو۔اپنی ذاتی سمجھ کے لیے پورے دل سے خدا پر بھروسہ کریں۔
جب ہم ان اصولوں پر عمل کرتے ہیں تو ہم یسوع مسیح میں ایمان کی مشق کرتے ہیں، تب ہم مزید روحانی اور جسمانی دونوں لحاظ سے خود انحصار بنتے ہیں تو ان تجربات سے ہم اپنے گھروں خاندانوں میںخوشی اور امن پاتے ہیں۔

 پہلی بار یہ آرٹیکل www.lds.org نے شائع کیا تھا۔

(Visited 65 times, 1 visits today)

Pin It on Pinterest

Share This