پہاڑی علاقوں والی سڑک
ہماری ذندگیوں کی طرح مشکل موڑوں اور چڑھائی والی سڑک۔

 

فٹبال کا موسم ہے ، اور ہم فٹبال دیکھنے میں مصروف ہیں ، بحث کر رہے ہیں کہ پہلے کون سا سٹار ہمارے کالج کے ستاروں کی طرززندگی کی پیروی کرئے گا،جس طرح وہ فوقی فٹبال لیگ یا کنیڈیین لیگ میں چمکتے ہیں۔

 

ایک  د فعہ ایک  بی وئی یوپھٹکری ، دیر تک رہنے والا، ریکارڈ توڑنے والا، پہلا طرز زندگی ، مگر اکثر ان کا طرز زندگی زخم کی وجہ سے قلیل عرصہ تک قائم رہتا ،پہلے کھیل کے سٹائل کی ناکامی کو اڈجسٹ کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں کا سامنا کرنے کی نا اہلیت،میں اکثر حیران ہوتا ہوں کہ تب کیا ہوتا ہے ۔ایک مجبور کرنے والی طرز زندگی تبدیل ہو جاتی ہے ،جبکہ ایک اتھلیٹ ابھی تک اپنی عمر کے بیسویں سال میں ہے ،اکثر اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ہوتا ہے۔

 

تا ہم ،اس قسم کی پریشانیاں کسی نہ کسی طرح ہم سب پر آتی ہیں ۔ہم میں سے وہ جو روح کے مطابق چلتے ہیں،وہ اور قسم کے مسائل سے دوچار ہو سکتے ہیں،جب ہم اپنی مرضی سے خُدا کی مرضی کا مقابلہ کرتے ہیں۔

 

یہاں تک کہ ہمارا ایمان ہمیں ناکام نہیں بناتا ، بے شک کم از کم ہمارا عقیدہ یا ایمان بالکل سید ھا ہو، اس راہ میں روحانی دھکا مل سکتا ہے، سڑک کو دوراہے بناتے ہوئے ۔ ہماری زندگی میں فانیت کی وجہ سے مایوسی اور گمراہی آتی ہے۔پھر بھی یہ ہر شخص میں ہوتی ہے۔ پھر بھی ان کے پاس ایک مقصد ہے۔

چکردار راستے والا نشان

ہر ایک شخص کی زندگی میں مشکلات ہوتی ہیں اس نشان کی طرح۔

تمہارا فانیت کا نقشہ کیسا دکھائی دیتا ہے؟

حال ہی میں مجھے بلاگ پر متوسط عمر مورمن کی ایک پوسٹ ملی ۔،اور وہ مجھے اپنے چند خیالات اور گرافکس اُدھار دینے میں رضامند ہوا۔پہلی شرح وہ راستہ ہے جس پر ہم اپنی زندگیوں کو ترقی کرتا ہوا دیکھتے ہیں۔

منصوبہ نمبر 1

وہ راستہ ہے جس پر ہم اپنی زندگیوں کو ترقی کرتا ہوا دیکھتے ہیں ۔

اس شرح سے میں بہت مطمین ہوں ۔یہ دراصل وہی راستہ ہے جس میں ہماری زندگی کے دروازے کھلتے گئے جب میں کالج میں تھا ۔ میری تعلیم ایک خوشحال زندگی کی ضمانت ہو گی۔کہیں سے اس خوبصورت سید ھی لائین یا لکیر پر ایک کامل ساتھی مل جائے گا اور پھرخوبصورت بچے ،گھر ،دوست ، کاریں، کلیسیامیں بلاہٹیں وغیرہ ۔

منصوبہ نمبر 2

وہ راستہ جس میں ہماری زندگیوں کی مشکلات سامنے ہیں۔

       کی دوسری شرح حیرت انگیز طور پر ایک نمائندگی کہ میری زندگی کے پرت کھلتے گئے )وہ کسے جانتے تھے) اگر میری آزمایئشیں اس شرح میں پائی جاتی ہیں ، اس میں صحت کی چنوتیاں ، کیرئیر کی چنوتیاں ، مالی بے ضابطگیا، بڑھتے ہوئے خاندانی تعلقات میں اچانک تبدیلی ، پیاروں کی وفات ، ایسی جگہوں پر قیام جہاں کوئی زبان نہیں بولی جاتی۔

میری روحانی راہیں سیدھی نہ تھی ،مگر موجدار ہے اوپر اور نیچے ،شکر ہے، یہ کبھی بھی دائروی نہ تھی ۔ پس اگرچہ یہ شکستہ ڈرائنگ عملی طور پر زندگی کی راہیں مطمیئن کرتی ہے ،پھر کیوں ؟ کیا اِدھر ابدی اقتدار ہے؟

جوزف سمتھ لبرٹی جیل میں۔

جوزف سمتھ لبرٹی جیل میں۔

خُداوند نے جوزف سمتھ کو بتایا تھا کے بُرے تجربات ہماری مدد کر سکتے ہیں۔کیسے؟

 

صحائف میں ہم سب کی پسندیدہ آیات بھی ہیں، اور یہ تعلیم اور عہد کے سیکشن ۱۲۲ میں ہی

 

(پیرافرازنگ)سلیسں کرنا ( میرا مطلب ہے مفصل ترجمہ کرنا) جیسا کے خداوند نے فرمایا جوزف سمتھ تکلیفوں اور شکائتوں کو برداشت کرتے ہوئے لبرٹی جیل میں تھا،( اس نے یوں کہا) وہ کہتا ہے ،اگر وہ تمہارے بازو اور ٹانگیں توڑ دیں ،چیختے ہوئے بچوں کو تم سے الگ کر دیں اور تمہارے مردہ جسم کو گلیوں میں گھسیٹیں ،یہ سب درست ہے۔"

تاہم ،تجزیہ اسے درست کہتا ہے۔ دراصل مجھے اس صحیفے سے نفرت ہے ، اور میں

okکی گرفت کی وضاحت تک پہنچنا چاہتا ہوں۔

میرے بیٹے مان لو، کہ یہ سب چیزیں تمہیں تجربہ فراہم کرینگی ، اور تمہاری بہتری کے لیے ہونگی ۔( ۷ آیت)

 

پھرخُداوند نے( یہ سب اسکی مانند ہے) جوزف کو حلیم کیا اور اسے شکایت کا ایک لفظ کہنے پر معافی مانگو:

اِبن آدم نے اپنے آپ کو سب سے (چھوٹا) حلیم کر دیا ، کیا تم اس سے بڑے ہو؟(۸ آیت)

آوارگی میں مقصد پانا۔

"زندگی" دینا ، ایک ہسپتال کی فراہمی سے کہیں زیادہ ہو گی،یہاں میں ایک آہ بھرتا ہوں اور محسوس کرتا ہوں ، کہ کس طرح ہماری آزمائیشیں ہماری اچھائی کے لیے مقدس یا پاک کیے جاتے ہیں ،اور کس طرح الجھنیں اور بدلاؤ عارضی اور ابدی اقدار حاصل کرتی ہیں۔ ( اور حقیقی چٹانیں میں جانتا ہوں کہ چند گری پڑی ہیں)۔

 

ریچل نومی ریمن ایک منفرد ڈاکٹر پروفیسر سین فرانسیکو میڈیکل سکول ، ادویات کی پریکٹس میں زیادہ محتاط اور رحم دل راستہ تلاش کر رہے ہیں۔ چند اور ڈاکٹر سمیت ،اس نے ایک کلینک کی بنیاد رکھی ، کینسر کے مریضوں کو، انکی زندگی کے سفر میں مشورہ دینے کو ،(جہاں) کینسر کے مریضوں کو اُنکی زندگی کی مشکلات میں مشورت دی جاتی تھی۔جس کا ایک حصہ اُنکی بیماری سے بدلنے کا سبب بنا تھا۔

 

ڈاکٹر ریمن کی پرورش ذہین یہودی والدین کے ذریعے ہوئی تھی جن کو روحانی باتوں میں کوئی دلچسپی نہ تھی، مگر اس کے دادا قدیم یورپ کے ربی تھے ۔اور اس نے سیکھا تھا کہ دوسروں کو " زندگی "کیسے دی جاتی ہے ،اپنی زندگی میں عقل اور خوشی میں اضافہ کرتے ہوئے۔

 

اپنے پاؤں سے ڈاکٹر ریمن نے بہت سے حیرت انگیز اسباق سیکھے۔اس نے دُنیا کے تما م مذاہب سے خوبصورت سچائیاں حاصل کرنا اور دوسروں کے لیے استعمال کرنا جاری رکھا۔میں نے اس کے اِس سبق سے ذاتی طور پر بہت کچھ سیکھا ،میرے دادا کی برکات :

 

راستہ : جب میں اپنے گھر کو دوبارہ تعمیر کر رہی تھی ، تو میں اپنے دروازے تک رسائی کے لیے دو حصوں میں بٹ گئی ۔ایک طریقہ گلی سے زینہ کے قدم کا تعمیر کرنا شامل تھا جو اس راستے پر کھلتا تھا جو براۂ راست میرے دروازے تک رہنمائی کرتا تھا۔

 

جس لمحے آپ پل پر پہلا قدم رکھتے ،تو تمہیں دروازے کے سامنے کا حصہ نظر آتااور تمھیں معلوم ہوجاتا کہ تم کہاں جارہے ہو ۔ اور دوسرا راستہ بالکل مختلف تھا۔تم گیٹ سے داخل ہوتے اور پُل کی تھوڑی سی سیڑھیاں چڑھتے اور چھوٹے سے کنارے تک جاتے اس کنارے کے بعد ایک عظیم خوبصورت درخت تھا۔ جب تم اوپر چڑھتے تو یہ درخت دیک

جب تم کنارے پر پہنچتے تو تم ایک تختے کے کنارے کا جوڑ دیکھتے اس سے گزرنے کے بعد تم سیڑھیوں کا پل دیکھتے جو بالکل ڈھلوائی تھا، جو دائیں طرف رہنمائی کرتا تھا ۔اس کا بالائی پُل تمہاری آنکھ کے لیول پر تھا،اور اوپر چڑھتے ہوئے کچھ دکھائی نہ دیتا جب تک تم ایک تختے کی چوٹی پر نہ پہنچ جاتے،جہاں سے تم دائیں طرف دیکھنے پر خوشی سے ساٹھ میل دور سینٹ فرانسیکو بے کو تسخیر کرتے یا معلوم کرتے۔

 

س تختے کو پار کرکہ تم آہستہ آہستہ تین قدم اٹھاتے جو بائیں جانب رہنمائی کرتے،ان پر چڑھ کر تم ناقابل توقع حد تک ایک چھوٹا سا میدان پاؤگے جو میرا پچھلا صحن ہے اِس سے گزر کر (نفس خاکہ)ٹامل پیس پہاڑ کا نفس خاکہ نظر آتا ہے ۔ جو ہمارے ملک کا سب سے اُونچا پہاڑہے

تب تم میرے درازے کا سامنا حصہ دیکھ سکتے ہو ۔ جواب صرف چند قدم دور ہے تم آہستہ آہستہ سب کچھ جانے بغیر ،اِس کی طرف آگے بڑھ رہے ہو ۔

جب ہم برائے راست جاتے ہیں جہاں ہم جانا چاہتے ہیں ، ہم شاہد اِس سفر میں کچھ کھو رہے ہیں یا مِس کر رہے ہیں ؟ ۔

سڑھیوں والا دروازہ

جب ہم برائے راست جاتے ہیں جہاں ہم جانا چاہتے ہیں ، ہم شاہد اِس سفر میں کچھ کھو رہے ہیں یا مِس کر رہے ہیں ؟

یہ فیصلہ کرنے کی کوشیش میں ، میں نے دو معمار وں سے مشورت کی ۔ ا ن دونوں نے مجھے بتایا کہ اس فن عمارت کا بنیادی اصول یہ تھا کہ لوگ سامنے والے حصے کو شروع سے ہی دیکھ پائیں کہ وہ کہا ں جا رہے ہیں ۔

وہ مطفق ہیں کہ اِس غیر یقینی حالت میں ، دوسری رائے دینے والے بے یقینی پیدا کرنا چاہتے ہیں ، کوئی بھی مہمان جو پہلی با ر اس گھر میں تشریف لاتا ہے ۔ ماہرین کے مشورتکی مشابہت کے باوجود ، آخر کار اُنہوں نے دوسرے طریقے کا انتخاب کیا ۔

اِس کے متعلق اس کے بارے سوچ کر مجھے دکھائی دیتا ہے کہ یہ جانتے ہوئے کہ کہا ں جا رہے ہیں ۔ ہماری حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ دیکھنا اور سننا بند کریں اور ہمیں سونے کی اجازت دیں ۔

.

دراصل جب میں اپنے آپ کو براہ راست اس راستے پر دیکھتا ہوں ۔ جب میں اس حصہ سے آگے سامنے یا بڑ ے دروازے کی طرف بڑ ھتا ہوں یونہی میں اسے دیکھتا ہوں ۔ جب میں اس حصہ کو پا ر کرنے کی کوشیش کرتا ہوں تو عام طور پر نہیں دیکھتا جس سے میں گزرتا ہوں ۔

 

نہ معلوم ہونا کہ تم کہاں جارہے ہو ۔ بہت ذیادہ بے یقینی پیدا کرتا ہے، یہ ایک زندہ احساس پیدا کرتی ہے یہ آپ کے اردگرد ،ایک مخصوص قدر ہے یا تعریف ہے ۔ یہ آپ کو اچھی طرح بیدار کرتی ہے جس طرح ایک بیماری کر تی ہے ۔

.

میں دوسرا راستہ چنتا ہوں شاہد ہم صرف یہ سوچتے ہیں ۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم سب کہاں جا رہے ہیں جبکہ ہم جہاں کہیں بھی جا رہے ہیں وہ بالکل مختلف ہے ۔میں نے اہم منزل حاصل کر نے کیلئے بہت ذیادہ کام کیا ہے ۔یہ صرف وقت پر ظاہر کرنا کہ اصل منزل میرے انتخابات ہیں جو بالکل کسی اور طرف راہنمائی کرتے ہیں ۔

میں موجود نہیں ہو سکتا تھا ۔ جب میں نے اس راستے پر پہلا قدم رکھا ۔ ہر زندگی کو زیر دست رکھنے کا مقصد ہے کہ زندگی میں اکثر ماسک پہنتے ہیں ۔ اس وقت جہا ں کہیں بھی ہماری توجہ ہے ۔ وہ خاص وجہ ہے کہ ہم پیدا کیوں ہوئے ہیں ، خاص بر کات ہیں یا ہماری خدمت کا طریقہ ہماری زندگی میں آسکتا ہے جو ایک نئی کار کی طرح دکھائی دے رہا ہے ، سفر کا ایک موقع ، یا عمدہ اور گرم چاکلیٹ کا ایک کپ ہو۔

سچائی یہ ہے کہ ہم ہمیشہ بھید میں آگے بڑھ رہے ہیں اور اس طر ح ہم حقیقت کے بہت قریب ہیں ۔ جب ہ اپنی منزل کو صاف صاف نہیں دیکھتے ہیں ۔ (درچل نوی ریمن ، میرے دادا کی برکات )صفحہ ۲۸۸۔۲۸۹زور دیا گیاہے )بھید کی ضرورت ، ہمارے مصنف کی تجویز کہ ہم ذیادہ جاندار ہیں ۔ جب ہمیں نہ معلوم ہو کہ آگے کیا ہے ۔

بھید کی ضرورت۔

بھید کی ضرورت

ایک مصنف کی تجویز کہ ہم مزید زندہ ہوتے ہیںجب ہمیں خبرنہیں ھوتی کہ آگے کیا ھے۔

ڈاکٹر ریمن کی تجویز بہت مضبوط ہے کہ ابھی تک بہت ذیادہ پڑھنے کے بعد بھی میں اسے پوری طرح نہیں جان پایا ۔تا ہم بے سکونی اور بے یقینی ہمارے لئے بہت بڑی اقدار ہیں ۔ اور جس طرھ وہ کہتی ہیں ، کہ یہ بیمار قدروں میں سے ایک ہے ۔

جب میں آج کے المیہ واقعات اور تشدد پر غور کرتی ہو ں تو پیچھے تاریخ پر نظر ڈالتی ہو ں تو میں ہر موڑ پر بے یقینی دیکھتی ہو ں اور پھر بھی خدا اسے قابل قدر بنا دیتا ہے ۔ اور ابدیت وہ ہے جو ہم سب خود ہیں ۔

ہم زمینی تجربہ رکھنے والے روحانی لوگ ہیں وہ ایک مضبوط وجہ بھی فراہم کرتی ہے ۔کہ خدا ہم سے دور کیوں ہے اور کہ ہمارے لئے اپنے آ پ کو پوری طرح ظاہر کیوں نہیں کرتا۔ وہ بھید یا راز جو اس کے گرد موجود ہیں ہمیں اس کی طرح کھنچتے ہیں ۔ جسطرٖح ڈاکٹر ریمن کہتی ہے ۔ جب ہم اپنی منزل صاف صاف نہیں دیکھتے ہیں حقیقت میں ہم اس کے قریب ہیں ۔

 

ہم بُرے اوقات میں بھی روحانی ترقی کر سکتے ہیں

م بُرے اوقات میں بھی روحانی ترقی کر سکتے ہیں

برائی ہمیں چنویتاں دیتی ہے ایوبکی طرح ہمیں خدا کا انتخاب کر نا چاہیے

ڈاکٹر ریمن کے فیصلے کے مطابق ہمیں روائیتی طبی مشق ترک کر نی چاہیے ۔اور روحانی کلینک قائم کرنے چائیں ۔ کیونکہ اس کی خواہش ہے کہ وہ پرشیان روحوں کی پرورش کرے ۔ جیسا کہ وہ بیمار اجام کو تندرست کرنے کیلئے کام کرتی ہے۔

 

اس نے بہت سے اختتام دیکھے ہیں ،ان میں سے زیادہ تر روحانی کامیابیوں سے تر تھے ۔روح دکھوں اور مایوسیوں میں بلند پرواز ی کر سکتی یا رہ سکتی ہے۔

 

یہ وہ پیغام ہے جو ایوب کی شاعری میں پنہاں ہے،اور بہت سے صحائف کی چُھو لینے والی آیات (یہ پیغام دیا گیا ہے)کلیدی بات ایوب کی کتاب میں موجود ہے ،اور یہ وہ ہے جو ہمیشہ اپنی غیر یقینی میں خُدا کی طرف راغب ہوتے ہیں۔

 

ایمان دار لوگ تصدیق کر سکتے ہیں ،کہ کوئی بھی آزمائش روحانی پریشانی کی وجہ سے زیادہ مشکل بن جاتی ہیں ،اور پھر اگر ہم خُداوند سے مدد طلب کرتے ہیں ، تو وہ ہمیں یقین سے زیادہ مدد دے سکتا ہے،وہ ہمیں اطمنان دے سکتا ہے۔

 

میں سالوں سے جانتی ہوں کہ جب ہم پریشانی میں خُدا کو ڈھونڈنتے ہیں ، وہ ہمیں اس سے نبرد آزما ہو نے کے لیے بہت سے تحفے یا خوبییاں دیتا ہے۔جب مشکل ختم ہوجاتی ہے ،ہم تحفے پانے کی کوشیش کرتے ہیں ۔یہ تحائف کتنے بے قیمت ہو جاتے ہیں جب ہم اپنی زندگی کے اگلے موڑ پر پہنچ جاتے ہیں۔

چکر دار راستہ

کردار کی تعمیر بمقابلہ روح سے رہنا ۔

میں نے بہت پہلے سیکھ لیا تھا کہ روح کے ساتھ رہنا بہت سے مواقع مہیا کرتا ہے جن کی میں نے کبھی توقع بھی نہیں کی تھی ۔راستے جو ہمیں ان عظیم راہوں پر لے جاتے ہیں جن کی ہم نے کبھی توقع بھی نہیں کی ہوتی۔

 

مشکل اپنے آپ کو تابع کرنے اور پُراسرارراستوں پر چلنے میں ہیں میں نے آسمانی باپ کو بتایا کہ میں وہاں جاؤ ں گی ، جہاں وہ چاہتا ہے کہ میں جاؤں ،مگر میں اس سے بھی آگے جاؤں گی اور ایک منصوبہ تیار کروں گی ، جو اوپر تصویر میں دیاگیا ہے۔

I

میرے خیال میں ہم سب میں کندہ کرنا یا خاکہ تیار کرنے میں ہماری رغبت مختلف ہے۔ مگر میں اس سے بہت اچھی تھی، میں نے انھیں سٹیل پر کندہ کیا جب روح دوسری طرف اشارہ یا رہنمائی کرتی ہے ۔ جو میں نے بہت مشکل سے بنایا تھا ۔ الگ کر دیا،یہ کافی مشکل تھا اب میں لکڑیوں سے خاکہ تیار کرتی ہوں اور ہمیشہ اس دھیمی آواز کو سُنتی ہوں جو میری راہنمائی کرتی ہے۔

 

اگر ہم خدا کی طرف آتے ہیں ۔تو ہم راست سمت سفر کرتے ہیں

اگر ہم خدا کی طرف آتے ہیں ۔تو ہم راست سمت سفر کرتے ہیں،

اب پلان بی کے نقشہ کی طرف دوبارہ دیکھے۔

نوٹ کریں کہ یہ اس منزل آتا ہوں جسکی ہم اُمید کرتے ہیں ۔مگر مزید تجربات اور علم سے ان آزمائشوں پر قابو پانے کے لیے آتے ہیں ،جو ہمارے راستہ میں آتے ہیں ۔

اور اپنے تجربے سے، تم روحانی علم حاصل کرتے ہو،جو تمھاری دوسروں کی مددکرتے ،سکھانے میں مدد کرتے ہیں جو اپنے ٹیڑے راستے پر چلتے ہیں ۔ریچل ریمن مورمن نہیں ہیں ،مگر اس کی کتاب میں دی گئی تحریر ایتھر کی کتاب کا حوالہ دیتی ہے کہ اپنے پڑھنے والوں کی مدد کر سکے کہ اس سچائی کہ دیکھ سکے اسے پوری طرح کہانی یاد تو نہیں ،مگراس سے ملنے والا سبق بہت خوبصورت ہے۔

 

جس بات نے اُسے متاثر کیاوہ یاردیوں کا ایمان تھاجو اپنے گھر چھوڑ کر روانہ ہوئے تاکہ وہ بڑے سمندر کہ پار کر کے وعدہ کی سر زمین پر جا سکیں سب کچھ جو ان کے پاس تھا ،وہ وعدہ تھا،اور ہدایات کہ کس طرح کشتیاں بنا سکیں ،بمع روشنی کے جو ان کے اندر تھی۔

 

یہ روشنی ان سولہ پتھروں سے آتی تھی جن کو خدا کی اُنگلی نے چُھوا تھا۔ڈاکٹر ریمن کو شاندار خاکے یا اشکال ملی ہیں جو آزادی کی تلاش میں بڑے اور یاردیوں گہرے سمندر کو پار کر رہے تھے،اسی روشنی سے جہاز چلانے سے صرف اس روشنی کے ذریعے ان کی روحیں روشن تھیں جسے خُدا نے چھوا تھا۔

 

میں اب بالکل ٹھیک ہوں ، مگر ان لوگوں کا کیا جن سے مجھے محبت ہے؟

طوفان میں امن

جب ہم خُدا کی پیروی کرتے ہیں ،ہمیں یاد رکھنا چاہیے،"ہوا ہمیشہ وعدہ کی سرزمین کی طرف چلتی ہے۔

میری بیٹی نے آج مجھے کال کی اور بتایا کہ اکثر وہ اپنے دور و نزدیکی دوستوں سے بُری خبریں سُنتی ہے یہ آزمائشی اوقات ہیں،یہاں تک کہ جب ہم خوشحالی سے لطف اندوز ہوتے ہیں جن کا علم تاریخ میں بھی موجود نہیں ہوتا۔

 

یہ مسیح یسوع کی آمد ثانی کا دور ہے ،اور روحانی جنگ شُروع ہو چُکی ہے ۔ میری بیٹی کے کچھ دوست اہنا ایمان کھو رہے ہیں ،دوسرے اپنی شادیاں کھو رہے ہیں ۔یقیناًہم گہرے سمندر کشتی چلا رہے ہیں ۔ .

 

اب، پہلے سے زیادہ ، ہمیں خُدا پر بھروسہ رکھنے کی ضرورت ہے ہمیں بھروسہ رکھنے کی ضرورت ہے کے وہ جانتا ہے کہ وہ کیا کر رہا ہے ۔ہمیں یع سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ ہم سے کتنا پیار کرتا ہے ہمیں محسوس کرنے کی ضرورت ہے ۔کہ یہ ماں جیسی محبت ہے ۔ وہ ہمارے لیے لڑیگا اور کبھی ترک نا کریگا ۔

 

جوزف سمتھ نے کہا " ہمارا آسمانی باپ اپنے خیالات میں زیادہ آزاد ہے ، اور اپنے رحم اور برکات میں لا محدود ہے،جسے ہم حاصل کرنے ک لیے تیار ہیں "

 

میری ایک دوست تھی جو اپنی ایک دوست سے پریشان تھی ، جس نے جھار عقیدہ اپنا لیا تھا اور یسوع پر ایمان کھو چُکی تھی اس نے اپنی دوست کے لیے بشدت دُعا کیاور آخر کار روح القدس کے ذیعے خُدا کی آواز سُنی ۔"میں اس پر کام کر رہا ہوں "

 

خُدا جانتا ہے ،اور دراصل اس نے فانیت میں ہمارے لیے راستہ متعین کیاہے ،جس میں چکر اور موڑ ہیں ،جن میْں کچھ ہمارے اپنے بنائے ہوئے ہیں ۔اور کچھ ہم پہ لاگو کیے گئے ہیں ۔( یہ ہماری بھلائی کے لیے دیے گئے ہیں)اور اس نے یہ ہماری بھلائی کے لیے کیاہے۔چونکہ
وہ ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ہمیشہ ایک خاص سمعت میں آگے بڑھاتا ہے۔ ریمن نے اپنی کتاب میں کہا،

زندگی کے کسی بھی راستے پر وقت آتا ہے جب کوئی انجانی راہوں پر بغیر نقشے یا قطب نما کے چلتاہے ،تو یہ مایوسی یا دہشت کے اوقات ہوسکتے ہیںیہ دریافت کے اوقات بھی ہو سکتے ہیں۔

ان لوگوں کا ساتھ دیتے ہوئے جو انجانی راہوں پر چلتے ہیں، میں نے معلوم کیا ہے کہ سب سے اہم حرکت کا حصہ مورمن کے خروج کی کہانی
ایک سیدھی لایئن ہے ۔ سمندر کے اس سفر میں چنوتیوں اور بہت زیادہ مشکلات کے باوجود ،ہوا ہمیشہ وعدہ کی سر زمین کی طرف چلتی ہے۔
میں نے بہت سے لوگوں کو اپنے چیو پھلاتے دیکھا ہے کہ اس ہوا کو پکڑیں۔ زندگی میں فضل ہے جس پر بھروسہ کیا جا سکتاہے ۔آزادی کے
لیے اپنی جدوجہد میں نہ ہمیں چھوڑ دیا گیاہے اور نا ہی تنہاہیں۔

 در حقیقیت یہ آرٹیکلwww.mormonhub.comنے شائع کیا تھا ۔

 

 

 

(Visited 197 times, 1 visits today)

Pin It on Pinterest

Share This