کلیسیائے یسوع مسیح مقدسین برائے آخری ایام کے خاص عقائد کیا ہیں؟

کلیسیائے یسوع مسیح مقدسین برائے آخری ایام کے بانی ، [نبی] جوزف سمتھ نے لکھا ، ’’ہمارے مذہب کے بنیادی اصول ۔۔۔یسوع مسیح کے متعلق یہ ہیں، کہ یسوع مسیح موا، دفن ہوا، اور تیسرے دن جی اٹھا، اور آسمان پر چڑھ گیا، ہمارے مذہب کی دوسری تمام باتیں صرف اسی سے منسلک ہیں۔ ‘‘

درج بالا کے علاوہ، آخری ایام کے مقدسین کا عقیدہ غیر مبہم یا ذو معنی نہیں ہے۔ ۱۔ یسوع مسیح دنیا کا منجی ہے اور ہمارے پیارے آسمانی باپ کا بیٹا ہے ۔
۲۔ مسیح کا کفارہ بنی نو انسان کو اپنے گناہوں سے نجات پائیں گے اور اپنے خاندانوں سمیت اپنے خدا کے ساتھ ہمیشہ تک رہنے کے لئے واپس لوٹیں گے۔

۳ یسوع مسیح کی حقیقی کلیسیا جو نئے عہد نامے میں بیان کیا گیا ہے، جدید دور میں بحال کی جا چکی ہے۔

۱۔ یسوع مسیح دنیا کا منجی اور ہمارے پیارے آسمانی باپ کا بیٹا ہے ۔ آخری ایام کے مقدسین ایمان رکھتے ہیں کہ خدا نے بنی نو انسان کو ان کے گناہوں سے بچانے کے لئے ، اپنے بیٹے یسوع مسیح کو بھیجا ۔ (یوحنا؛ ۳؛۱۶) [ کیونکہ خدا نے دنیا سے ایسی محبت رکھی کہ اس نے اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا تاکہ جو کوئی اس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو نلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے] خدا محبت بھرا آسمانی باپ ہے جو اپنے بچوں کو انفرادی طور پر جانتا ہے ، انکی سنتا ہے اور انکی دعاؤں نکا جواب دیتا ہے، اور ان کے لئے رحم محسوس کرتا ہے۔ آسمانی باپ اور اسکا بیٹا یسوع مسیح دو الگ الگ ہستیاں ہیں اور روح القدس (روح)کے ساتھ، چاہت،مقصد اور محبت میں ایک ہیں۔

آخری ایام کے مقدسین یسوع مسیح کی پرستش اپنے نجات دہندہ اور بچانے کے طور پر کرتے ہیں۔ وہ کلیسیائی ارکان کی زندگیوں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ اسکا فضل اور رحم مانتے ہیں۔ وہ بپتسمہ لے کر اسکے نمونے کی پیروی کرتے ہیں(متی ؛ ۳؛۱۳۔۱۷) ، اس کے پاک نام میں دعا کرنے کرکے(متی ؛ ۶؛۹۔۱۳)، ساکرامنت لے کر ( دیکھو لوقا۲۲؛ ۱۹۔۲۰ )، دوسروں کے ساتھ بھلائی کرکے (دیکھو اعمال؛ ۱۰؛ ۳۸) اور قول و فعل سے اسکی گواہی دیکر ( دیکھو ، یعقوب؛ ۲؛ ۲۶) [ اسکی پیروی کرتے ہیں

مسیح کا کفارہ بنی نو انسان کو اپنے گناہوں سے معافی پانے اور اپنے خاندانوں سمیت خداکے پاس واپس جانےاور اسکے ساتھ ہمیشہ تک  ہنے کی اجازت دیتا ہے۔آخری ایام کے مقدسین کا ایمان ہے کہ خدا کا اپنے بچوں کے لئے ایک منصوبہ ہے کہ اسکے بچے اس کے پاس واپس لوٹیں اور مسیح کے ہم میراث بنیں( رومیوں ۸؛ ۱۷ )۔ کلیسیائی ارکان کے لئے یسوع مسیح کا کفارہ خدا کے خوشی کے منصوبے میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے ۔ اگرچہ انسان غلطیاں اور گناہ کرتا ہے ۔ مورمن اس فانی زندگی کو سیکھنے اور ترقی کرنے کا موقع سمجھتے ہیں۔ مسیح کی تعلیم کی پیروی کرکے، اسکا رحم حاصل کرنے اور بپتسمہ لینے اور دوسری ساکرامنٹ پوری کرنے سے، [ ترقی کرتے ہیں] مورمن ایمان رکھتے ہیں کہ مسیح کے فضل سے انکے گناہ معاف ہو گئے ہیں اور وہ اپنے خاندان سمیت ہمیشہ خدا کے ساتھ رہنے کے لئے اسکے پاس واپس جا سکتے ہیں۔

۳۔ مسیح کی حقیقی کلیسیا جو نئے عہد نامے میں بیان کی گئی ہے ، جدید دور میں بحال کی جا چکی ہے ۔ارکان ایمان رکھتے ہیں ، کہ مسیح نے قدیم وقت میں کلیسیا کی قائم کی تھی اور اس کی بنیاد ، ’’ نبیوں اور رسولوں پر رکھی تھی ‘‘ (افسیوں؛ ۲؛ ۲۰ )، ( اور افسیوں ؛ ۴؛ ۱۱۔۱۴) بھی دیکھیں۔کہ ایک ہی بپتسمہ اور ایک ایمان ہے ۔ان کا ایمان ہے کہ یہ ’’ ایک ایمان‘‘ کی بنیاد مسیح کے رسولوں کی وفات کے بعد آہستہ آہستہ برباد یا ختم ہو گئی ۔ نتیجتہ ، کلیسیا کی رہنمائی کرنے کے حقیقی اختیار کی بنیادموقوف ہوگئی،اور اسے بحال کرنے کی ضرورت تھی ( اعمال ؛ ۳؛ ۲۱)۔ آج ارکان ایمان رکھتے ہیں کہ خدا نے در حقیقت زندہ نبیوں اور رسولوں کے ساتھ اپنے کلیسیا بحال کردی ہے ۔ کلیسیائے یسوع مسیح مقدسین برائے آخری ایام کے بنی نبی ، جوزف سمتھ سے آغاز کرکے [ کلیسیابحال کر دی ہے]۔

کلیسیا کے ارکان سمجھتے ہیں کہ خاندان معاشرے کی سب سے اہم اکائی ہیں، انکے مطابق جو مسیح کی پیروی کرتے اور اسکے حکموں پرعمل کرتے ہیں، ان سے یہ عہد کیا گیا ہے ، کہ اپنے خاندان سمیت الہی طور پر قائم کردہ ابدی رشتہ میں قائم رہیں گے۔

مورمنز کے متعلق اکثر پوچھے جانے والے سوالات۔

مورمنز کے متعلق سوالات

ہم مورمنز ہیں۔

کلیسیا کے روحانی تجربہ کی بنیاد خدا کی طرف سے روحانی گواہی پر ہے جو انکے دلوں اور ذہنوں کو خدا کے ساتھ براہ راست ذاتی تعلق قائم کرنے کی تحریک دیتی ہے۔ کلیسیا کا کردار، مسیح کی تعلیم کی پیروی کرنے میں اپنے ارکان کی مدد کرنا ہے ۔ اس لئے ، کلیسیا کی خاص یا اندرونی تعلیم ہر لحاظ سے کوشش کرنا ہے کہ ہمارا ہر عمل مسیح کی تعلیم کے مطابق ہو، جس طرح بائیبل اور بشمول مورمن کی کتاب دوسرے صحائف میں درج ہے۔

."
آخری ایام کے مقدسین کا ایمان ہے کہ کلیسیا کی صحائف پر مبنی تعلیم زندگیاں تبدیل کرتی ہے ۔ کہ لوگ زیادہ سے زیادہ نجات دہندہ کی مانند بننے کی تحریک پائیں۔بارہ رسولوں کی جماعت کے رکن صدر بوئیڈ کے پیکر نے سکھایا ، ’’سچی تعلیم کو سمجھنا ،رویہ اور چال چلن بدل دیتا ہے ۔

ذہن میں اس علم کے ساتھ، کلیسیا کی تعلیم کے متعلق اکثر پوچھے جانے والے سوالات کے جوابات کی ترتیب درجہ ذیل ہے جو مزید واضع کرنے میں مدد کرتی ہے کہ آخری ایام کے مقدسین کا ایمان کیا ہے۔ سوالات کی فہرست کشادہ فہم نہیں ہے بلکہ یہ نیوز میڈیا کی طرف سے کی جانے والی بہت ہی عام تحقیق کو پیش کرتی ہے ۔

کیا مورمنز مسیحی ہیں؟

ہاں، کلیسیائے یسوع مسیح مقدسین برائے آخری ایام ایک مسیحی کلیسیا ہے مگر نہ ہی کیتھولک اور نہ ہی پروٹسٹنٹ ہے ۔ اسکے برعکس، یہ یسوع مسیح کی بحال شدہ کلیسیا ہے جو بائبل میں عہد جدید کے مطابق منجی نے ابتدائی طور پر قائم کی تھی۔ کلیسیا ان عقائد کو نہیں اپناتی جو تیسری اور چاتھی صدیوں میں اپنائی گئی تھیں جو کہ دوسری بہت سی مسیحی کلیسیاؤں میں مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔

آخری ایام کے مقدسین ایمان رکھتے ہیں کہ خدا نے اپنے بیٹے یسوع مسیح ، کو تمام بنی نو انسان کو موت اور انکے انفرادی گناہوں سے بچانے
کے لئے بھیجا۔ یسوع مسیح کلیسیائی ارکان کی زندگیوں کا مرکز ہے ۔ و ہ اسکے پاک نام میں بپتسمہ لینے (متی؛۳؛۱۳۔۱۷ ) ، دعا کرنے سے اسکے نمونے کی پیروی کرتے ہیں(متی؛ ۶؛ ۹۔۱۳) ساکرامنٹ لینے سے ، (دیکھو ، لوقا؛ ۲۲؛ ۱۹۔۲۰)، دوسروں کے ساتھ بھلائی کرنے سے (اعمال؛۱۰؛ ۳۸) اور قول وفعل دونوں سے اسکی گواہی دینے سے،( یعقوب؛ ۲؛۲۶)۔ نجات کا واحد ذریعہ یسوع مسیح پر ایمان لانا ہے ۔

مورمنز خدا کے متعلق کیا ایمان رکھتے ہیں؟

کلیسیائے یسوع مسیح مقدسین برائے آخری ایام ، اکثر خدا کو اپنا آسمانی باپ تعبیر کرتے ہیں کیونکہ وہ تمام انسانوں کی روحوں کا باپ ہے اور انھیں اسکی شبیہ پر تخلیق کیا گیا ہے ، ( دیکھو ، پیدائش؛ ۱؛۲۷)یہ خداکی طرف سے مناسب اصتلاح ہے، جو ایک مہربان اور راست، کامل عاقل اور کلی طاقتور ہے ۔خدا باپ ،اسکا بیٹا یسوع مسیح ، اور روح القدس الوہیت یا تثلیث بناتے ہیں۔ مورمنز یا آخری ایام کے مقدسین ایمان رکھتے ہیں کہ خدا کا جسم ہے اگرچہ اسکا جسم کامل اور جلالی ہے ۔

کیا مورمنز تثلیث پر ایمان رکھتے ہیں؟

مورمنز عام استعمال ہونے والی اصتلاح ’’ الوہیت ‘‘ تثلیث کو بیان کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ ایمان کے ارکان ، میں پہلا رکن آخری ایام کے مقدسین یوں پٹرھتے ہیں، ’’ ہم خدا ابدی باپ، اور اسکے بیٹے یسوع مسیح ،اور روح القدس پر ایمان رکھتے ہیں ‘‘ آخری ایام کے مقدسین ایمان رکھتے ہیں، کہ خدا باپ، یسوع مسیح ، اور روح القدس مقصد اور کام میں ایک ہیں ، مگر حقیقی طور پر وہ ایک ہستی نہیں ہے، جیسا کہ عام طور پر تثلیث میں تصور پیش کیا جاتا ہے۔

مورمنز کے مطابق زندگی کا مقصد کیا ہے ؟

مقدسین ایام آخر کے لئے، فانی زندگی کو تاریخ کے پیرائے میں دیکھا جا سکتا ہے ، زمینی زندگی سے پہلے کی زندگی میں ، جہاں تمام بنی نو انسان کی روحیں آسمانی باپ کے ساتھ ، مستقبل کی زندگی کے لئے اسکی حضوری میں رہتے تھے جہاں نشوونما ، علم اور ترقی ہوگی۔ زمین پر زندگی کی حالت عارضی تصور کی جاتی ہے، جہاں مرد وعورت کی آزمائش کی جاتی اور ان کا امتحان کیا جاتا ہے ، جہاں وہ تجربہ حصل کرتے ہیں جو کہیں اور سے حاصل نہیں ہو سکتا ۔ خدا انسان کو جانتا تھا کہ وہ غلطیاں کرے گا ، لہذا اس نے ایک نجات دہندہ ، یسوع مسیح فراہم کر دیا۔ جو دنیا کے گناہ اپنے پر لے لے گا کلیسیائی ارکان کے لئے زمین سے زندگی کا خاتمہ آخر نہیں ہے [بلکہ یہ] خداکا ساکے بچوں کے منصوبہ میں اگلے قدم کا آغاز ہے ۔

کیا مورمنز بائیبل پر ایمان رکھتے ہیں ؟

ہاں ، کلیسیا بائیبل کی خدا کے کلام کے طور پر تعظیم کرتی ہے، صحائف کی ایک مقدس جلد ہے۔مقدسین ایام آخر ، اس کی تعلیمات کو پیارا خیال کرتے ہیں او ر زندگی بھر اسکی الہی سمجھ کے مطالعہ میں مصروف عمل ہیں۔ علاوہ ازیں عبادتی خدمت میں بائیبل پر سوچ بچار اور بحث کی جاتی ہے۔اضافی صحائف کی کتب، بشمول مورمن کی کتاب، خدا کی تعلیمات کو مضبوط کرتی اور زور دیتی ہے ، جو بطور اضافی گواہ موجود ہے ، اسکے موثر ذاتی تجرباتی سرگزشت میں مرقوم بہت سوں کا یسوع مسیح کے ساتھ ذاتی اور انفرادی تعلقات کاتجربہ موجود ہے ۔ بقول کلیسیا کے رسول ایلڈر ایم رسل بیلرڈ، ’’مورمن کی کتاب نہ اسکو کمزور اور نہ ہی اسے کم کرتی ہے ، نہ بائیبل کو مجبور کرتی ہے ، اسکے برعکس اس میں اضافہ کرتی ہے ،اسے بڑھاتی اور اسکی ہدایت کرتی ہے ۔

مورمن کی کتاب کیا ہے ؟

بائیبل کے قدیم اور جدید عہد ناموں کے علاوہ ، مورمن کی کتاب یسوع مسیح کی بابت ایک اور عہد نامہ ہے ۔ یہ قدیم نبیوں کی تحریروں پر مشتمل ہے جو بر اظم امریکہ کی سر زمین پر [رہنے والے ] لوگوں کے ساتھ خدا کے کام کی جلد ، داستان یا سرگزشت ہے ۔ آخری مقدسین کے مطابق یہ قدیم اور جدید عہد ناموں کے ساتھ بطور پاک صحائف موجود ہے ۔

مورمن کی ہیکل کیا ہے ؟

ہیکلیں بائیبل کے زمانہ یا دور میں موجود رہی ہیں۔ یہ عماتیں خدا کا گھر کہلاتی تھیں ( دیکھو؛ ۲ تواریخ ؛ ۲ ؛ ۱۔۵ )۔ اسی طرح آخری ایام کے مقدسین کے کلیسیائی ارکان کے لئے یہ خدا وند کے گھر تصور کیے جاتے ہیں۔ آخری ایام کے مقدسین کی ہیکلیں مقدس عماتیں ہیں جن میں ان کو نجات کے منصوبے میں مسیح کے مرکزی کردار اور خدا کے ساتھ ان کے ذاتی تعلقات کی تعلیم دی جاتی ہے ۔ ان ہیکلوں میں کلیسیائی ارکان عہود کرتے ہیں کہ وہ پاکیزہ اور وفادار زندگی گزاریں گے ، وہ اپنے مرحوم آباء و اجداد کی طرف سے ساکرامنٹ بھی پیش کرتے ہیں۔

ان ہیکلوں میں، کلیسیائی ارکان عہود کرتے ہیں کہ وہ پاکیزہ اور وفادار زندگی گزاریں گے۔ وہ اپنے مرحوم آباء و اجداد کی طرف سے ساکرامنٹ کی عبادت بھی گزرانتے ہیں۔

مورمن کی ہیکلوں کو شادی کی تقریبات کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔جس میں وفادار وں سے خاندان سمیت ابدی زندگی کا وعدہ کیا جاتا ہے۔کیونکہ کلیسیائی ارکان کے لئے خادان مرکزی اہمیت کے حامل ہیں۔

کیا آخری ایام کے مقدسین جدید نبیوں یا موجودہ دور کے نبیوں پر ایمان رکھتے ہیں؟

ہاں، کلیسیا نبیوں کے زریعے منظم کی جاتی ہے ، بائیبل کے دور کی کلیسیا کی تنظیم کرتے ہوئے جو یسوع نے قائم کی تھی ۔ تین رسول صدارت مجلس اعلیٰ قائم کرتے ہیں( جو کلیسیا کے صدر یا نبی اور اس کے دو مشیروں پر مشتمل ہوتی ہے ) اور بارہ رسولوں کی جماعت کے ساتھ مل کر ان کے پاس کلیسیا کی بین القوامی طور رہنمائی کرنے کی ذمہ داری ہے ۔اور یسوع مسیح کے خاس گواہوں کی خدمت کرتے ہوئے، ہر ایک کو کلیسیا میں بطور نبی تسلیم کیا جاتا ہے ، جس طرح رسولوں کا کردار بائیبل میں مرقوم ہے ۔

کیا آخری ایام کے مقدسین ایمان رکھتے ہیں کہ رسول خدا سے مکاشفہ حاصل کرتے ہیں ؟

ہاں، جب آخری ایام کے مقدسین خدا سے گفتگو کرتے ہیں، وہ اسے دعا کہتے ہیں، جب خدا روح القدس کے ذریعے جواب دیتا ہے تو ارکان اسے مکاشفہ گردانتے ہیں۔ مکاشفہ اپنے وسیع معنوں میں الہی تحریک یا رہنمائی ہے ، یہ زمین پر اسکے بچوں کے ساتھ اسکی سچائی اور علم میں رابطہ ہے یا ابلاغ ہے ۔ جو انکی سمجھ اور زبان کے موافق ہو۔ اسکا یہ مطلب ہے کہ اس کو ظاہر کرنا جو ابھی تک مخفی ہے ۔بائیبل مختلف قسم کے مکا شفہ جات کا ذکر کرتی ہے ، ڈرامائی رویا سے لے کر نیک احساس کی وسعت ہے ۔’’ جلتی ہوئی جھاڑی ‘‘سے لے کر ’’ہلکی سرگوشی کی آواز‘‘ تک ، مورمنز عام طور پر ایمان رکھتے ہیں کہ الہی رہنمائی خاموشی سے ملتی ہے، تاثیریں، سوچیں یا خیالات،اور احسات جو خدا کا روح فراہم کرتا ہے۔

کیا مورمن عورتیں کلیسیا میں رہنمائی کرتی ہیں؟

ہاں، تمام عورتیں پیارے آسمانی باپ کی بیٹیاں ہیں۔ مرد و عورت خدا کی نظر میں برابر ہیں۔ بائیبل فرماتی ہے ، ’’ نہ کوئی یہودی رہا نہ یانانی، نہ غلام نہ آزاد، نہ کوئی مرد نہ عورت کیونکہ تم سب مسیح یسوع میں ایک ہو ، ‘‘ ( گلتیوں؛ ۳ ؛ ۲۸ )۔ ایک خاندان میں مرد و عورت ایک خاندانکی رہنمائی کرنے اور پرورش کرنے میں برابر کے شراکت دار ہیں۔

کلیسیائے یسوع مسیح مقدسین برائے ایام آخر کی عورتوں نے شروع ہی سے کلیسیا کے کاموں میں اہم کردار ادا کیا ہے ، جبکہ اہل مرد کہانت رکھتے ہیں، اہل عورتیں بطور رہنما ، مشیر ،مشنری معلم خدمت کرتی ہیں، اور بہت سی اور ذمہ داریوں پر کام کرتی ہیں ۔ وہ اکثر پلپٹ پر سیتبلیغ کرتی ہیں، اور جماعت کی دعاؤں اور پرتش میں خدمت سر انجام دیتی ہیں۔ وہ دونوں کلیسیا میں اور مکامی عوام میں خدمت کرتی ہیں۔ اور دنیا میں مختلف شعبہ جات میں رہنما کے طور پر خدمت کرتی ہیں۔بچوں کی پرورش کرنا انکی اہم اور خاص ذمہ داری تصور کی جاتی ہے ، اور کہانتی ذمہ داری میں برابری کی سطح خصوصی استحقاق رکھتی ہیں۔

کیا آخری ایام کے مقدسین کا ایمان ہے کہ وہ خدا بن سکتے ہیں؟

آخری ایام کے مقدسین ایمان رکھتے ہیں کہ خدا چاہتا ہے کہ ہم اسکی مانند بنیں، مگر اس تعلیم کو اکثر انہوں نے غلط بیان کیا ہے جو ایمان مزحیہ تصویر سجھتے ہیں۔ آخری ایام کے مقدسین کا ایمان بائیبل کی تعلیم سے مختلف نہیں ہے ۔ جو بیان کرتی ہے ، ’’ روح خودہماری روح کے ساتھ مل کر گواہی دیتا ہے ، کہ ہم خدا کے فرزند ہیں، اور اگر ہیں تو وارث بھی ہیں ، یعنی خدا کے وارث اور مسیح کے ہم میراث، بشرطیکہ ہم اسکے ساتھ دکھ اٹھائیں تاکہ اس کے ساتھ جلال بھی پائیں ( رومیوں؛ ۸؛ ۱۶۔۱۷) مسیح کی تعلیمات کی پیروی کرکے ااخری ایام کے مقدسین ایمان رکھتے ہیں، کہ سب لوگ ، [جنکے باعث اس نے ہم سے قیمتی اور نہایت بڑے وعدے کیے تاکہ ان کے وسیلہ سے تم اس خرابی سے چھوٹ کرجو دنیا میں بری خواہش کے سبب سے ہے ]ذات الہی میں شریک ہو جاؤ ( ۲ پطرس؛ ۱؛ ۴ )۔

کیا آخری ایام کے مقدسین ایمان رکھتے ہیں، کہ وہ اپنا سیارہ حاصل کریں گے ؟

نہیں، یہ نظریہ آخری ایام کے مقدسین کے صحائف یہ نہیں سکھاتے، نہ ہی یہ کلیسیا کی تعلیم ہے ۔ یہ غلط فہمی کی شاخ نقطہ چینوں کی سوچ بچار اور صحائف کی تعلیمات پر دھندلی سوچ سے ماخذ ہے ۔مورمن ایمان رکھتے ہیں کہ ہم سب خدا کے بیٹے اور بیٹیاں ہیں، اور ہم سب کے پاس قوت ہے کہ اس زندگی اور اس کے بعد آنے والی زندگی میں اپنے آسمانی باپ کی مانند بن سکتے ہیں( رومیوں ؛ ۸؛ ۱۶۔۱۷) کلیسیا کا کبھی بھی یہ مقصد نہیں رہا کہ مسیح کے قول کو پوری طرحخصوصا سمجھتے ہیں کہ ’’ میرے باپ کے گھر میں بہت سے مکان ہیں ‘‘ (یوحنا ؛ ۱۴؛ ۲ )۔

کیا کچھ آخری ایام کے مقدسین ہیکل کا لباس پہنتے ہیں ؟

ہاں، ہماری دنیا میں مختلف قسم کی مذہبی پابندی میں بہت سے لوگ خاص لباس پہنتے ہیں ، اس یاد دہانی کے لئے کہ وہ اپنے پاک عقائد کے کتنے پابند ہیں، تاریخ میں یہ ایک عام مشق رہی ہے ،آج کلیسیائے یسوع مسیح برائے مقدسین برائے آخری ایام کے ارکان ہیکل کا لباس پہنتے ہیں، یہ لباس سفید اور سادہ ہے جو دو حصوں یعنی انڈر ویر اور بنیان پر مشتمل ہوتا ہے ، اوپر والا حصہ ڑی شرٹ کی طرح ہوتا ہے اور دوسرا انڈر ویئر کی طرح کا ہوتا ہے ، یہودیوں کی دعائیہ چادر یا شال کی طرح کا نہیں ہے ۔ یہ لباس باقاعدہ لباس کے نیچے پہنا جاتا ہے ۔ ہیکل کا لباس ایک یاد دہانی کے طور پر پہنا جاتا ہے ہم نے خدا ساتھ کیا وعدے کیے ہی کہ ہم اچھی ، باعزت اور مسیح کی طرح کی زندگی بسر کریں گے۔ ہیکل کا لباسبیرونے لحاظ سے ایک ظاہری اظہار ہے کہ ہم باطنی طور پر منجی کی پیروی کرنے میں کتنے پابند ہیں۔ کتاب مقدس میں خا ص لباس پہننے کے کئی حوالہ جات ہیں عہد قدیم میں یہودیوں کو خاص ہدایات تھیں کہ وہ اپنے لباس کو خدا کے ساتھ اپنے عہود کی ذاتی یاد دہانی کے طور پر یاد رکھیں ( دیکھو؛ گنتی؛ ۱۵؛ ۳۷۔۴۱ )در حقیقت ، کچھ لوگوں کے لئے ، مذہبی لباس ہمیشہ سے ہی انکی روز مرہ زندگی میں مجموعی پرستش کا اہم حصہ رہا ہے ۔یہ پریکٹس یا مشق مقدسین ایام آخر صدائے بلند یا گونج پیدا کرتی ہے ۔

کتاب مقدس میں خا ص لباس پہننے کے کئی حوالہ جات ہیں عہد قدیم میں یہودیوں کو خاص ہدایات تھیں کہ وہ اپنے لباس کو خدا کے ساتھ اپنے عہود کی ذاتی یاد دہانی کے طور پر یاد رکھیں ( دیکھو؛ گنتی؛ ۱۵؛ ۳۷۔۴۱ )در حقیقت ، کچھ لوگوں کے لئے ، مذہبی لباس ہمیشہ سے ہی انکی روز مرہ زندگی میں مجموعی پرستش کا اہم حصہ رہا ہے ۔یہ پریکٹس یا مشق مقدسین ایام آخر صدائے بلند یا گونج پیدا کرتی ہے ۔

ہیکل کے لباس کی ذاتی مذہبی خاصیت کی وجہ سے تمام ذرائع سے کہتی ہے کہ اس مضمون کو احترام سے رپورٹ کریں، ٓیام آخر کے مقدسین کے ہیکل کے لباس سے بھی اسی طرح کا سلوک کریں جو دوسرے عقائد کی پوشاک سے کیا جاتا ہے ، مذاق اڑانا یا مقدس پوشاک کی اہمیت کم کرنا مقدسین آخری ایام کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے۔

کیا ایام آخر کے مقدسین کثیر الزواج کی مشق کرتے ہیں؟

نہیں ، کلیسیائے مقدسین آخری ایام کے ۱۴ ملین ارکان ہیں اور ان میں سے ایک بھی کثیرالزواج نہیں ہے ۔ کثیرالزواج کی مشق کلیسیا میں سختی سے منع ہے ۔کلیسیا میں شادی کا عام معیار ہمیشہ سے واحد الزاوج رہا ہے ، جس طرح مورمن کی کتاب میں بیان کیا گیا ہے۔ ( دیکھو ؛ یعقوب ؛ ۲؛ ۲۷ ) [پس اے میرے بھائیو میری سنو اور خداوند کی آواز پر کان لگاؤ اور جان لو کہ ہر ریکا آدمی کی صرف ایک بیوی ہو اور کوئی حرم نہ رکھے ]بائیبل کے دور میں نبیوں نے کثیرالزواج کی مشق کیا کرتے تھے جیسے کہ ابراہیم اور یعقوب اور بادشاہوں نے کی جیسے کہ داؤد بادشاہ اور سلیمان بادشاہ۔اسکی پھر کلیسیا کے ابتدائی ایام میں، مقدسین آخری ایام کی قلیل تعداد نے کی تھی ۔کثیرالزواج کی مشق۱۲۲سال پہلے ۱۹۸۰ء ؁ میں منقطع یا روک دی گئی تھی۔جو آج کثیرالزواج کی مشق ککرتے ہیں ، ان کا کلیسیا سے کوئی تعلق نہیں ہے

نسلی تعلقات میں کلیسیا کی کیا پوزیشن یا مقام ہے؟

یسوع مسیح کی انجیل یا خوشخبری ہر ایک کے لئے ہے ۔ مورمن کی کتاب میں مرقوم ہے یا فرماتی ہے ، ’’ [وہ اپنے پاس آنے والے کسی کا انکار نہیں کرتا ] خواہ وہ کالا ہو یا گورا، غلام ہو یا آزاد، مرد ہو یا عورت، وہ بیدینوں کو یاد رکھتا ہے ، خدا کی نظر میں یہودی اور غیر قومیں سب ایک ہیں ‘‘ ۔ یہ کلیسیا کی باضابطہ یا سرکاری تعلیم ہے ۔ تمام نسلوں کے لوگوں کو ہمیشہ خوشآمدید کیا گا ہے اور شروع ہی سے کلیسیا میں انکو بپتسمہ دیا گیا ہے۔در اصل جوزف سمتھ نے اپنی زندگی کے آخر میں ۱۸۴۴ء ؁ میں، کلیسیائے یسوع مسیح مقدسین برائے آخری ایام کے بانی نبی نیغلامی کی مخالفت کی تھی ۔ اسی دوران کچھ کالے مرد حضرات کو کہانت عطا کی گئی تھی۔ ایک وقت میں افریقی نسل کے مرد حضرات کو کہاتی رتبے پر مخصوص کرنا موقوف کر دیا گیا تھا، بے شک چند ایک کے لئے استثنا تھا۔یہ نہیں معلوم کہ کلیسیا میں یہ پابندی کیوں ، کیسے یا کب رائج کی گئی یا لگائی گئی،مگر یہ موقوف ہو چکی ہے ۔کلیسیاکے رہنما ایسے مسائل کے لئے الہی رہنمائی حاصل کرتے ہیں، تین دہائیاں پہلے ہر ایک مرد کے لئے کہانت پانا بڑہا دیا گیا ہے ۔ کلیسیا نے فوری طور پر پوری دنیا میں ارکان کو کہانتی دفاتر میں مخصوص کرنا شروع کر دیا جب کبھی انہوں نے [ کلیسیا میں شرکت اختیار کی۔

کلیسیاواضح طور پر نسلی امتیاز کو رد کرتی ہے بشمول تمام نسلی امتیاز دونوں کلیسیا یا کلیسیا سے باہر اور انفرادیہو ،۲۰۰۶ء ؁ میں اس وقت کے کلیسیا کے صدر گورڈن بی ہنکلینے اعلان کیا کہ کوئی شخص بھی جو کسی دوسری نسل کے متعلق بدنامی یا کم قدری جیسے کلمات ادا کرے اپنے آپ کو مسیح کا سچا شاگرد نہ سمجھے اور نہ ہی کلیسیا کی تعلیم کے ہم آہنگ سمجھے ۔آئیں ہم سب اس بات کو تسلیم کریں کہ ہم میں سے ہر ایک ہمارے آسمانی باپ کا بیٹا یا بیٹی ہے ، جو اپنے سب بچوں سے پیار کرتا ہے ۔

کیا مورمن کا ایمان ہے کہ باغ عدن مضوری میں ہے ؟

ہم نہیں جانتے کہ حقیقت میں باغ عدن کیاصلی جگہ کونسی ہے جبکہ یہ اہم یا بنیادی تعلیم نہیں ہے ۔جوزف سمتھ نے دیوس کوؤنٹی مضوری میں اباد کاری کوقائم کیا تھا ، اور سکھایا کہ باغ عدن کا علاقہ یہاں کہیں ہے ،جیسا کہ نوح کی کشتی میں جانوروں کی قلیل تعداد کو جان کر ، اور باغ عدن کی صحیح جگہ کو جانناکسی کی نجات اس سے بہت کم اہمیت کی حامل ہے جو کہ یسوع مسیح کے کفارہ پر ایمان رکھتے ہیں۔

آپ مردوں کے لئے کیوں بپتسمہ لیتے ہیں؟

یسوع مسیح نے سکھایا ، کہ ’’ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک کوئی آدمی پانی اور روح سے پیدا نہ ہو وہ خدا کی بادشاہی میں داخل نہیں ہو سکتا ‘‘ ۔ ( یوحنا؛ ۳؛ ۵ )ان کے لئے جو بپتسمہ لینے کی رسم کے بغیر وفات پا چکے ہیں، ان مرحومین کے لئے بپتسمہ لینا آزاد مرضی ہے ۔ کلیسیا کی تعلیم کے مطابق، رخصت ہونے والی روحآنے والی زندگی میں مکمل طور پر آزاد ہے کہ اس بپتسمہ کو تسلیم کرے یا رد کرے۔ یہ خدمت آزادانہ مہیا کی جاتی ہے اور اسے آزادانہ ہی قبول کرنا چاہیے۔یہ رسم مرحوم فرد یا شخص کو مجبور یا فورس نہیں کرتی کہ وہ کلیسیائے یسوع مسیح مقدسین برائے آخری ایام کے رکن بنیں، یا ’’ مورمن ‘‘ اور نہ ہی کلیسیا مرحومین کی بطور کلیسائی ارکان فہرست مرتب کرتی ہے ۔مختصر یہ کہ [بپتسمہ ] لینے والا یا [ بپتسمہ] لینے والے کی نسل یا اولاد۔۔مجبور کرکے تبدیل کرنے کا نظریہ مکمل طور پر یا بالکل کلیسیا کی تعلیم کے بر عکس ہے

یقینا، مردوں کی جگہ بپتسمہ لینا کوئی نیا نہیں ہے۔ عہد جدید میں پولوس رسول نے اس کو بیان کیا ہے ، (، دیکھیں؛ ۱کرنتھیوں؛ ۱۵؛ ۲۹)اور
ابتدائی گروپس یہ کام کرتے تھے۔ جیسا کہ یہ عہد جدید کی مسیحت بحالی کا حصہ ہے ، آخری ایام کے مقدسین اس کام کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تمام کلیسیائی ارکان کو ہدایت ہے پراکسی بپتسمہ کے لئے صرف اپنے ان مرحومین رشتہ داروں کے نام مہیا کریں جو خاندانی محبت ظاہر ہوتی ہے ۔

کلیسیا مشنریوں کو کیوں بھیجتی ہے ؟

کلیسیاکے مشنیری

کلیسیاء یسوع مسیح برائے مقدسین آخری ایام کے مشنیری۔

کلیسیائے یسوع مسیح مقدسین برائے آخری ایام کی مشنری کوشش کی بنیاد عہد جدید کے طریقہ پر ہے کہ مشنری خدمت کے لئے دو دو کو بھیجا جاتا تھا ، انجیل کی خوشخبری دیں اور جو ایمان لائیں انکو یسوع مسیح کے نام میں بپتسمہ دیں، (مثال کے طور پر اعمال کی کتاب میں پطرس اور یوحنا کے کام کو دیکھیں، ۲۵۰۰۰ سے زائد مشنریز جن میں سے اکثر کی عمر ۲۵ سال سے کم ہے ، کسی بھی وقت چرچ یا کلیسیا کے لئے مشنری خدمت سر انجام دیتے ہیں۔ مشنری رضا کارانہ خدمت کرتے ہیں جن میں سے اکثر اپنے مشن کے لئے فنڈ خود فراہم کرتے ہیں۔ وہ اپنی ذمہ داری چرچ ہید کوارٹر کی طرف سے دی جاتی ہے اور صرف ان ملکوں میں بھیجا جاتا ہے جہاں کی حکومت کلیسیا کو کام کرنے کی اجازت دیتی ہے ۔ دنیا کے کچھ حصوں میں مشنریز کو صرف انسانی ہمدردی کی خدمت کے لئے ،یا دوسرے خاص مشن یا مقاصد کے لئے بھیجا جاتا ہے
، اگر کلیسیائے یسوع مسیح مقدسین برائے آخری ایام کے بارے میں آپ کے اور یامزید سوالات ہیں۔ تو برائے مہربانی ہم سے رابطہ کریں۔

(Visited 54 times, 1 visits today)

Pin It on Pinterest

Share This